سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نیوز: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کے عزم و ہمت کو سراہا ہے جنہوں نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے کی پاداش میں اپنی زندگی کے مجموعی طور پر 38برس بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمود احمد ساغر نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ شبیر احمد شاہ مسلسل گزشتہ آٹھ برس سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں جبکہ انہوں نے اب تک مجموعی طور پر 38 سال بھارتی قید میں بسر کیے ہیں۔ محمود احمد ساغر نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کو بھارت مجض ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے، وہ پوری زندگی تنازعہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کی بات کرتے رہے ہیں، تکالیف، مشکلات اور جیلوں کی صعوبتوں کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت شبیر احمد شاہ کیخلاف اب تک ایک بھی الزام ثابت نہیں کر سکا لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل نظربند رکھا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔
محمود احمد ساغر نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ شبیر احمد شاہ کی حالت زار کا نوٹس لیں اور ان کی جلد از جلد رہائی کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیری سیاسی نظربندوں پر ظلم و ستم رکوانے اور ان کی رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ دریں اثنا ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے بھی ایک بیان میں بھارتی جیلوں میں کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
