سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: ماہر تعلیم، دانشور اور امن کارکن ڈاکٹر شیخ ولید رسول نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کے طرز عمل پر بھارتی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کشمیری عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شیخ ولید رسول نے یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے جائیداد کے حقوق کو سلب کرنے اور ان کو بے اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیاسی جماعتوں کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کے اقدامات سے کشمیری عوام کا جذبہ آزادی ختم نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرنے اور علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیے کشمیری عوام 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن حق خودارادیت کے لیے جاری کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کی یاد دہانی ہے جسے وہ اپنے حقوق کی خلاف ورزی اور اپنی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ولید رسول نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص ہندوتوا کے نفاذ پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے جگہوں کے نام اور طلباء کے نصاب کو تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کی بھی مذمت کی جسے وہ کشمیری عوام کی ثقافتی شناخت اور ورثے کو مٹانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی گروپوں پر وحشیانہ مظالم کے لیے بدنام ہٹلر نے بھی اس طرح خطوں کی ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جس طرح بھارتی حکومت کشمیر میں کر رہی ہے۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے حوالے سے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
