سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: آزاد کشمیر کے وزیر خوراک چوہدری اکبر ابرہیم نے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کی اقوام متحدہ حمایت کرے، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ظلم و بربریت کے باوجود انسانیت کے علمبردارخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کی انتہا کر چکے، کشمیری اور فلسطینی کلمہ حق کے لیے اپنی جانوں اور عصمتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں وزیراعظم انوار الحق کی قیادت میں قائم قومی حکومت عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس وقت گندم کی خرید، ڈھلائی، پسوائی، ترسیل اور آٹے کی فروخت میں پندرہ سے بیس ارب کی تفاوت ہے، ساڑھے سات ارب روپے حکومت صرف ڈھلائی کے لیے دے رہی ہے، لوگوں کی قوت خرید بہت کم ہے، حکومت عوام کی قوت خرید کے مطابق تیس ارب کے قریب سبسڈی دے رہی ہے، ہم نے وزیراعظم کے ویژن کے مطابق آٹے کی غیر قانونی سمگلنگ اور کرپشن کو ختم کیا ہے، اب ضرورت مندوں کو آٹا وافر مقدار میں میسر ہے، آزاد کشمیر میں زراعت سمیت ہائیڈل اور سیاحت کے پوٹیشنل سے خطہ کے اندر بے روز گاری کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہیں، ریاست اور سیاست مل کر چلیں گے تب ہی جا کر نظام میں بہتری ممکن ہے، اس وقت ریاست اور سیاست میں خلا موجود ہے، ہمارا معاشرہ اضطراب، بے چینی اور بے راہ روی کا شکار ہے، اخلاقی اور روایتی کلچر کا خاتمہ ایک المیہ ہے، ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں لیکن تربیت سے محروم ہو رہے ہیں، اساتذہ، والدین، نسل نو کی تربیت پر فوکس کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مرکزی ایوان صحافت میں ”میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل پریس کلب آمد پر صدر واحد اقبال بٹ، سیکرٹری جنرل ذوالفقار بٹ سمیت عہدیداران اور اراکین نے ان کا استقبال کیا اور معزز مہمان کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔
کشمیر اور فلسطین میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کی اقوام متحدہ حمایت کرے، چوہدری اکبر ابراہیم
