سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کر دیا ہے اور انہیں اظہار رائے، اجتماع اور نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر غلام نبی فائی نے یہ بات اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 13اگست 1948ء کی قرارداد کو 76 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کئے گئے ایک بیان میں کہی۔ قرارداد میں جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے استصواب رائے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فائی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے اس قرارداد کو تسلیم کیا ہے لیکن بھارت مختلف بہانے کر کے اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا۔ ڈاکٹر فائی نے ماضی میں امریکی سفارت کاروں کے بیانات کا بھی حوالہ دیا جن میں سفیر ہنری کیبوٹ لاج جونیئر اور سفیر وارن آسٹن شامل ہیں جنہوں نے کشمیر کے لوگوں کی مرضی معلوم کرنے کے لیے استصواب رائے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔انہوں نے ڈومیسائل قانون کے نفاذ اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء جیسے بھارت کے حالیہ اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹر فائی نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کوششوں کی قیادت کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں مہاتما گاندھی اور بھارتی مندوبین کے بیانات کا بھی حوالہ دیا جن میں کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بیان میں 77سال پرانے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا گیا جو بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لئے بھی فائدہ مند ہو گا۔
کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم کر دیا گیا ہے، ڈاکٹر فائی
