سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ریاست میں ہونے والے انتخابات پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسمبلی کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ وہ ریاست کی صورت حال کے باعث آنے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان انتخابات میں جیت بھی جاتی ہیں اور وزیراعلیٰ بن جاتی ہیں تو پھر بھی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنی پارٹی کا ایجنڈا نافذ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی انتخابی سیاست میں داخل ہو رہی ہیں اور وہ والدہ کی دستبرداری کے باوجود انتخابات میں حصہ لیں گی۔ محبوبہ مفتی نے بھارت کی ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرانتظام انتخابات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ رہی ہیں، جس نے 2016ء میں 12 ہزار فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) منسوخ کر دیا تھا، کیا اب ہم ایسا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ وزیراعلیٰ کی حیثیئت میں میں نے حریت پسندوں سے مذاکرات کے لیے خط لکھا تھا، کیا آج آپ وہی بات کر سکتے ہیں، میں نے عملی طور پر جنگ بندی کرائی تھی کیا آج بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بطور وزیراعلیٰ آپ ایف آئی آرز واپس نہیں لے سکتے ہیں تو پھر اس عہدے پر رہنے کا کیا فائدہ ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے مؤقف میں تبدیلی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ نے خود کہا تھا کہ انہیں ایک چپراسی کے تبادلے کے لیے بھی لیفٹننٹ گورنر کے در پر جانا پڑے گا، مجھے چپراسی کے تبادلے سے کوئی غرض نہیں لیکن کیا ہم اپنا ایجنڈہ نافذ کر سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کانگریس یا نیشنل کانفرنس سے انتخابات میں اتحاد کا تاثر رد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اکیلے انتخابات میں حصہ لیا ہے، 1999ء میں جب ہماری پارٹی وجود میں آئی تھی اس وقت سے ہم بغیر اتحاد کے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی مدد کے ساتھ عوام کی مدد کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں، ہم کانگریس کا حصہ تھے، میں سی ایل پی کا حصہ تھے، مفتی محمد سعید رکن پارلیمنٹ تھے لیکن ہم نے وہ پارٹی چھوڑی اور ایک الگ پلیٹ فارم تشکیل دیا تاکہ ہم لوگوں کی مشکلات کا خاتمہ کرسکیں۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو بحال کروانے کے لیے کوششیں کرے گی، جس ریاست کے خصوصی حیثیت سے متعلق ہے، بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی مذاکرات شروع کروانے اور کشمیری پنڈتوں کی باعزت وادی کشمیر میں واپسی یقینی بنانے کے لیے کوششیں کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2014ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے 15 نشستیں جیتی تھیں اور کانگریس کو 12 ملی تھیں جبکہ پی ڈی پی نے سب سے زیادہ 28 نشستیں حاصل کرکے بی جے پی سے اتحاد کے ذریعے حکومت تشکیل دی تھی۔محبوبہ مفتی دو مختلف نظریات کی حامل جماعتوں کے اتحاد کی بنیاد پر ریاست کی وزیراعلیٰ منتخب ہوئی تھیں جو دیرپا ثابت نہ ہو سکا تھا اور ان کی حکومت 2018ء میں گر گئی تھی اور مقبوضہ ریاست کو صدارتی انتظام میں دے دیا گیا تھا۔
