سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ سویڈن میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کشمیر کونسل سویڈن کے زیراہتمام ”یوم یکجہتی کشمیر“ کے حوالے سے منعقدہ تقریب کی صدارت سردار تمور عزیز نے کی۔ مقررین نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بھرپور وکالت کی ضرورت پر زور دیا اور متنازعہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سویڈش حکام پر بھی زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے کردار ادا کریں۔ اس تقریب کی ایک خاص بات کشمیری نژاد ایک 10 سالہ سویڈش لڑکی مریم تمور کی تقریر تھی، جس میں انہوں نے کہا میں اپنے کشمیری بھائیوں، بہنوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں، ہم یہاں سویڈن میں ان کی آنکھ اور کان بن جائیں گے۔ سویڈن اور فن لینڈ میں پاکستان کے سفیر بلال حئی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی پر پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ تمام سخت قوانین، خاص طور پر ڈومیسائل قانون، علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے لاگو کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی مظالم کے باوجود حق خودارادیت کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں ہیں۔
ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کی زمینوں اور دیگر املاک پر قبضے کو علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بے دخلی اور مسماری مہم بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے مترادف ہے۔ تقریب کے دوران آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور سابق صدر سردار مسعود خان کے ویڈیو پیغامات بھی سنائے گئے۔
