سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا ہے کہ ہم بھارت سے مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید کے اجساد خاکی حاصل کرنے کے لیے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کریں گے۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبول بٹ کو 11فروری 1984ء کو اور افضل گورو کو 9 فروری 2013ء کو سزائے موت دے کر ان کے اجساد خاکی کو ان کے اہلخانہ کی مرضی کے برخلاف بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ہی دفن کر دیا تھا اور وہ ابھی تک اجساد ورثاء کے حوالے کرنے سے انکاری ہے۔علی رضا سید نے کہا کہ ہم بہت جلد انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جائیں گے تاکہ اس عالمی عدالت کے ذریعے بھارت سے ان عظیم شہداء کی میتیں واپس لے سکیں اور ان کی آخری رسومات بڑے اعزاز کے ساتھ اور اہلخانہ کی مرضی کے مطابق مادر وطن کشمیر میں ادا کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کے اجساد کو ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کے لیے عالمی برادری بھارت پر دبائو ڈالے۔
علی رضا سید نے بھارتی جیل میں نظربند سینئر کشمیری رہنما محمد یاسین ملک، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز اور دیگر کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں جو یورپی یونین کا ہیڈکواٹر بھی ہے، دس فروری کو شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا اہتمام کشمیر کونسل ای یو اپنے سیکرٹریٹ میں شام سات بجے کر رہی ہے جس میں کشمیریوں، ان کے ہمدردوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کے لیے شہداء کی قربانیوں کو دنیا بھر میں اجاگر کرتے رہیں گے۔
