سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے تحت رہنے والے لوگوں کے بگڑتے ہوئے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی طرف مبذول کرائی ہے۔ ذراِئع کے مطابق جنیوا میں مصر کے محمد عزالدین عبدالمنیم کے زیر صدارت اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بارے میں کمیٹی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فائی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقوق شہری اور سیاسی آزادیوں سے الگ نہیں اور عالمی تعاون سے ان کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ اجلاس 28فروری 2025ء کو اختتام پذیر ہو گا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ انسانی حقوق کے کمیشن نے 21 فروری 1977ء کی اپنی قرارداد میں کہا تھا کہ بین الاقوامی برادری کے تمام ارکان کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ شہری اور سیاسی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو یقینی بنانے کے لیے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے مکمل حصول کے لیے سازگار حالات پیدا کریں۔
ڈاکٹر فائی نے تجویز پیش کی کہ ای ایس سی آر کے 77ویں اجلاس کے اٹھارہ آزاد ماہرین غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حقوق کے مسئلے کا جائزہ لیں اور معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کا طرقہ کار وضع کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارت کے قبضے میں ہیں۔ بھارت نے انہیں نہ صرف معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے بلکہ تمام شہری اور سیاسی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وعدے کے باوجود انہیں ابھی تک حق خودارادیت نہیں دیاگیا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے مسلسل انکار اور عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیاں باعث تشویش ہیں اور صحافتی آزادی افغانستان اور میانمار سے بھی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظالم کا جواز پیش کرنے کے لیے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو غلط طور پر دھشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فائی نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اور اقتصادی مفادات پر انسانی حقوق کو ترجیح دیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
