سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں سانحہ کنن پوشپورہ کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کی صدارت سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے کی۔ ذرائع کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کنن پوشپورہ میں اجتماعی عصمت دری کے واقعے سے پوری انسانیت شرمسار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرمناک اور کربناک واقعہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کے چہرہ پرایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 34برس گزرنے کے باوجود سانحہ کنن پوشپورہ کے متاثرین انصاف سے محروم ہیں جبکہ اس گھنائونے جرم میں ملوث بھارتی فوجی آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی تلخ یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے سانحات کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں کشمیری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی لازوال قربانیاں ہیں، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے کیس کو دوبارہ کھولے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ عظمیٰ گل، آزادکشمیر کی وزیر نبیلہ ایوب، ایمبسڈر نائلہ چوہان، سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، سید فیض نقشبندی، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، اعجاز رحمانی، راجہ شاہین، حسن البناء، شیخ عبدالمتین، شیخ یعقوب، حاجی محمد سلطان، نثار مرزا، زاہد صفی، امتیاز وانی، محمد شفیع ڈار، میاں مظفر، منظور احمد ڈار، عبدالمجید لون، عدیل مشتاق وانی، شیخ عبدالماجد، نذیر احمد کرنائی، عبدالحمید لون، سید گلشن احمد، عبدالمجید میر، منظور الحق بٹ، قاضی عمران، عبدالرشید بٹ، رئیس میر، نذیر احمد بٹ، مشتاق احمد لولابی، ارشد اعوان اور دیگر افراد نے سیمینار میں شرکت کی۔
