سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جنوری 2024ء سے اب تک جنگلات میں آگ لگنے کے 307 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس سے علاقے میں جنگلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے کل رقبے کا 11%حصہ جنگلات کے نیچے ہے جو 10.15لاکھ ہیکٹر رقبہ پر مشتمل ہے۔ بھارت میں جنگلات کی آگ پر نظر رکھنے والے ادارے فاریسٹ سروے آف انڈیا (FSI) نے 2024ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آگ لگنے کے 284 واقعات رپورٹ کئے ہیں جبکہ آتشزدگی کے 23 واقعات 2025ء کے پہلے دو مہینوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ 2025ء میں اب تک جنوری میں آگ لگنے کے 17 بڑے واقعات ریکارڈ کیے گئے اور فروری میں 6 واقعات پیش آئے۔ ایف ایس آئی کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع ریاسی میں جنگلات میں آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے اور 2025ء کے پہلے دو مہینوں میں 6 واقعات اسی ضلع میں پیش آئے، اس کے بعد ضلع رامبن میں 4 اور پلوامہ اور کشتواڑ میں 3-3 واقعات پیش آئے۔ ادھم پور، ڈوڈہ اور راجوری میں دو دو واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ضلع پونچھ سے آگ لگنے کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ مقامی لوگ خاص طور پر جنگلاتی علاقوں میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار قابض بھارتی فوجیوں کو قرار دیتے ہیں۔اس کے لئے وہ لکڑی کی غیر قانونی فروخت سمیت مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2024ء سے جنگلات میں آگ لگنے کے 307 واقعات
