سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارتی سپریم کورٹ نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی اس درخواست پر سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی ہے جس میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک اور دیگر کے خلاف دو جعلی مقدمات کی سماعت مقبوضہ جموں و کشمیر سے دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عدم دستیابی کی وجہ سے سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔ یاسین ملک نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہو کر سماعت رمضان المبارک کے اختتام تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جسے بینچ نے قبول کر لیا۔ سی بی آئی 1989ء اور 1990ء میں سری نگر میں پیش آنے والے دو واقعات سے متعلق مقدمات کی منتقلی کی کوشش کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو جموں کی خصوصی عدالت میں سماعت کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کی مناسب سہولیات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ محمد یاسین نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں، انہیں این آئی اے کی عدالت نے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا رکھی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے یاسین ملک کے حوالے سے درخواست پر سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی
