Input your search keywords and press Enter.

عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین پر پابندی کشمیر دشمنی پر مبنی اقدام ہے، غلام محمد صفی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ اور کشمیر دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایک بیان میں کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر پابندی لگانا غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پابندی سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال مزید بدتر ہو جائے گی۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں عوامی ایکشن کمیٹی سمیت جتنی بھی پارٹیوں پر پابندی عائد کی گئی ان کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں اور یہ تنظیمیں ہمیشہ مذہبی، سیاسی اور سماجی خدمات میں پیش پیش رہی ہیں اور پرامن طور پر سیاسی حقوق کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس واضح کرتی ہے کہ بھارت نے پہلے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والی بہت ساری تنظیموں پر یہ سمجھ کر پابندی لگا دی تھی کہ اس سے تحریک آزادی کشمیر ختم ہو جائیگی، لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ ان پابندیوں سے تحریک آزادی کشمیر پر کوئی اثر نہیں ہوا اور بھارت کی ہندتوا حکومت کی یہ کوشش بھی کشمیری عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ غلام محمد صفی نے کہا کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور بھارت کی طرف سے پابندیاں، قتل و غارت، پکڑ دھکڑ، جائیدادوں کی ضبطگی، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں اور انسانیت سوز مظالم ہمارے راہ کی دیوار نہیں بن سکتے۔

 

پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسلام اور مسلمانوں کیخلاف مسلسل ظالمانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کشمیری عوام کو ڈرانے دھمکانے، انہیں بے اختیار کرنے، ان کے مذہبی اور سماجی حقوق سلب کرنے اور آزادی اظہارِ رائے کو سلب کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے جس پر بھارتی حکومت مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019ء سے عمل پیرا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے