سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی فورسز کی طرف سے علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کشمیری وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی، چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے آئی آئی ار سردار امجد یوسف، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، زید ہاشمی، آصف جرال، شگفتہ اشرف اور دیگر نے شرکت کی۔ مقررین نے مقبوضہ علاقے میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ کی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر روشنی ڈالٹے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے ہزاروں کشمیریوں کو اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور بھارتی جیلوں میں قید کر رکھا ہے جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت بلاجواز گرفتاریوں اور ”یو اے پی اے اور پی ایس اے“ جیسے کالے قوانین کو جبر کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو کشمیری سیاسی نظربندوں کی حالت زار کا نوٹس لیکر ان کی رہائی کے لیے بھارت پر دباﺅ ڈالنا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہیے۔
بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
