سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کا جمہوری مطالبہ کرنے کے لیے متحد ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ اپنے اسلامی اقدار، روایات، انصاف، مساوات اور آزادی کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے اور کشمیری پاکستان کو اپنی مقدس سرزمین سمجھتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کے باوجود کشمیری نوجوان بھارتی سنگینوں کے سائے میں بھی ”پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا کر اپنی پاکستان سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ 23 مارچ 1940ء کا دن پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تاریخی روز لاہور میں منعقدہ اجتماع میں کشمیری قیادت نے بھی شرکت کی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنی سیاسی منزل کا تعین کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریے کے تحت مسلمانوں کا ایک الگ وطن پاکستان بنانے کا فیصلہ بالکل درست تھا کیونکہ بھارت میں نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسیوں کے باعث نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ خود بھارت کے اندر بھی بسنے والی اقلیتیں بھارتی سرکار کے ظلم و جبر اور فسطائیت کا شکار ہیں۔
یوم پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ آج کے دن ہم بانیانِ پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یقینِ محکم اور نظم و ضبط کے ساتھ محنت کے ذریعے ہم پاکستان کو مزید مضبوط اور خوشحال بنا سکتے ہیں کیونکہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی کشمیریوں کی آزادی کا ضامن ہے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جیسے قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کو ایک الگ وطن پاکستان بنا کر دیا تھا ایسے ہی کشمیریوں کو بھی ایک دن بھارت کے ظالمانہ اور جابرانہ تسلط سے آزادی ملے گی اور کشمیری بھی آزادی کی فضاء میں سانس لیں گے۔
