Input your search keywords and press Enter.

اظہار رائے کی آزادی سلب کر کے بھارت اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا، عزیر احمد غزالی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ مقبوضہ سرینگر میں بھارتی غاصب انتظامیہ کی جانب سے 8 کشمیری نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر بھارتی جبر و اسبتداد سے آزادی کے حق میں پوسٹ کرنے پر گرفتار کرنا فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ ایک بیان میں چیئرمین پاسبان حریت عزیر احمد غزالی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کے شہر خاص سرینگر میں 8 نوجوانوں کو بھارتی غاصب پولیس کی جانب سے آزادی، حق خودارادیت اور انصاف کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کی پاداش میں گرفتار کرنا آزادی اظہارِ رائے پر پابندی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں میں سرینگر کے رہائشی ابرار مشتاق، ذوہیب ظہور، فرہاد رسول جبکہ ضلع کولگام کے رہائشی سجاد احمد لون کے علاوہ چار نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سفاک حکومت مقبوضہ جموں کشمیر میں بے گناہ کشمیری شہریوں کو ظلم و استہزاء کا شکار بنانے کیلئے ان کے خلاف سازشی اقدامات کا جواز پیش کرنے کیلئے اکثر انہیں حریت پسند تنظیموں کا کارکن قرار دیتی ہے۔ جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ کشمیر کا ایک ایک شہری بھارتی جبر سے آزادی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے دہشت پسندانہ اقدامات سے کشمیریوں کی حق پر مبنی مزاحمت آزادی کو نہ تو دبایا جا سکتا اور نہ ہی سوشل میڈیا صارفین کی اظہار رائے کی آزادی سلب کر کے بھارت اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ انہون نے مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ بھارتی فوجیوں کے دباؤ اور جماؤ اور کالے قوانین کے بدترین استعمال کو کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اسے فسطائیت کی بدترین صورتحال قرار دیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی کریک ڈاؤن کیخلاف آواز اٹھائیں اور بھارتی جیلوں، اذیت خانوں، ٹارچر سیلوں اور فوجی کیمپوں میں گرفتار رکھے گئے کشمیری شہریوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے