Input your search keywords and press Enter.

میرواعظ کی وقف بل کے معاملے پر کشمیر اسمبلی میں بحث کرانے سے اسپیکر کے انکار کی مذمت

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے متنازعہ وقف ترمیمی بل کے معاملے پر کشمیر اسمبلی میں بحث کرانے کے لئے اسپیکر کی طرف سے اجازت نہ دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جو انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے سربراہ بھی ہیں، ایک بیان میں اسپیکر کے رویے کو عوامی اعتماد کے ساتھ خیانت قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تامل ناڈو جس میں صرف چھ فیصد مسلم آبادی ہے، وقف بل کے خلاف ایک مضبوط قرارداد کیسے پاس کر سکتا ہے، جبکہ مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کی اسمبلی تکنیکی چیزوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ انہوں نے اسپیکر کو یاد دلایا کہ ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کو مینڈیٹ نازک مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے وعدوں پر ملا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز اور قابل مذمت ہے کہ تامل ناڈو کی اسمبلی میں وقف بل کے خلاف ایک مضبوط قرارداد پاس کی جاتی ہے جہاں صرف چھ فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ مسلم اکثریتی کشمیر اسمبلی کے اسپیکر تکنیکی باتوں کے پیچھے چھپ کر ریاست کے مسلمانوں کے لیے اس تشویشناک مسئلے پر بات کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو معلوم ہو گا کہ ان کی پارٹی کو صرف اسی وجہ سے عوامی منڈیٹ ملا ہے کہ اس نے اگست 2019 کے بعد پامال کئے گئے لوگوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور نازک معاملات پر ایک مضبوط موقف اختیار کیا تھا، اب وہ اس قدر آسانی سے کیوں ہتھیار ڈال رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے