سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے مقررین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے علاقے میں ایک آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے حوالے سے متعدد قراردادیں پاس کر رکھی ہیں جن پر عمل درآمد میں واحد رکاوٹ بھارتی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق کانفرنس کا انعقاد کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کیا تھا۔ کنویر غلام محمد صفی کی صدارت میں کشمیر ہاﺅس میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماوں، حریت قائدین، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے اراکین اور ماہرین قانون نے شرکت کی۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت جموں و کشمیر کے بارے میں عالمی برادی کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدو ں پر عملدرآمد کے بجائے کشمیریوں کی جدوجہد کو طاقت کے بل پر دبانے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف جبر و استبداد کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔
مقررین نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے میں عالمی قوانین اور اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور وہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ مقررین نے جیلوں میں بند حریت رہنماوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور عام شہریوں کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت جسمانی و ذہنی اذیتوں کے باوجود انکے حوصلے پست کرنے میںںناکام رہا ہے۔بکانفرنس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں بھارتی فورسز کے وحشیانہ جبر بشمول ماورائے عدالت قتل، تشدد اور پرامن مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی گئی۔ قرار داد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میںںنافذ تمام کالے قوانین کی منسوخی اور علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں فوری طورںپر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ںقرار داد میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام تھے۔
کانفرنس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق، سنیٹر مشاہد حسین سید،راجہ ظفر الحق، مصطفی کمال رہنما، چودھری لطیف اکبر، شاہ غلام قادر، خواجہ فاروق احمد، راجہ مشتاق خان، چوہدری لطیف اکبر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی، سردار حسن ابراہیم،ںعبد الماجد خان، سرادار عبد الخالق وصی، مولانا سید محمد یوسف،ںسردار عثمان، سردار افسر خان،ںنجیب اللّٰہ الغفور، محمد فاروق رحمانی، محمود احمد ساگر، سید یوسف نسیم، سید فیض نقشبندی، میر طاہر مسعود، محمد حسین خطیب، الطاف حسین وانی، شمیم شال، غلام نبی بٹ، راجہ پرویز احمد، ایڈوکیٹ پرویز احمد، مشتاق احمد بٹ ل، محمد رفیق ڈار، شیخ عبدالمتین، حسن البنا، حاجی محمد سلطان، داود خان، اعجاز رحمانی، محمد الطاف بٹ، خادم حسین، شیخ یعقوب، امتیاز وانی، زاہد صفی، میاں مظفر، ثنااللہ ڈار، عبد الحمید لون، عبد المجید لون، منظور احمد ڈار، شیخ عبدالماجد، محمد اشرف ڈار، محمد شفیع ڈار، نذیر احمد کرناہی، عدیل مشتاق، سید گلشن، زاہد مجتبیٰ، خورشید میر، منظور احمد شاہ، خالد شبیر، عبدالمجید میر،ںقاضی عمران، عبدارشید بٹ، امتیاز احمد بٹ اور دیگر شریک تھے۔کانفرنس کے اختتام پر شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی، مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے دعا کی گئی۔
