سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (نئی دہلی): نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسانوں کو اپنی زرعی اجناس پیداواری لاگت سے کم نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔
سپورٹ کشمیر میڈیا کے مطابق زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا میں تسلیم کیا کہ 2018-19 سے کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بہت سے کاشتکار کم قیمتوں پر اپنی اجناس بھیج رہے ہیں اور وہ قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔اس حوالے سے لوک سبھا میں سوال ستپال برہم چاری اور چندر پرکاش چودھری نے اٹھا یا تھا۔ چوہان نے ایک تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ چھوٹے چھوٹے رقبے پر موجود زمینوں، کٹائی کے بعد کے ناقص بنیادی ڈھانچے اور بکھری ہوئی منڈیوں کیوجہ سے مقبوضہ علاقے میں کم از کم امدادی قیمتوں کے تحت خریداری تک کسانوں کی رسائی متاثر ہے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے کسان پہلے ہی بھارتی قبضے کی وجہ سے معاشی دباو کا شکار ہیں ، مودی حکومت کے کشمیر دشمن اقدامات نے انہیں مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
