Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر کی گجر برادری کی مظلومیت اور ہم /ڈاکٹر نذر حافی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز : پرویز گجر کی شہادت ہر کشمیری کی شہادت ہے۔ میرا تعلق گجر برادری سے نہیں، لیکن اس کے باوجود آج کل مقبوضہ کشمیر میں گجر برادری کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف آواز بلند کرنا میں اپنی انسانی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔

برادریاں ہم کشمیریوں کی شناخت اور پہچان ہیں، یہ ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں اگرچہ کوئی بھی برادری محفوظ نہیں، لیکن اب خاص طور پر گجر برادری کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قابض فورسز سب کشمیریوں کی دشمن ہیں اور وہ سب کو الگ الگ برادریوں میں تقسیم کر کے، ہر ایک کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہتی ہیں۔

گجر برادری سے قابض فورسز کی خاص دشمنی کی ایک اہم وجہ اس کی عددی اکثریت اور اس کا مستقل تاریخ و تمدّن ہے۔ کشمیر کے گجر اپنی سرسبز و شاداب دھرتی کے بیٹے ہیں، ان کی غیرت بھی کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں کی مانند ناقابلِ تسخیر ہے۔ انہیں نوکریوں اور پیسوں کے ذریعے خریدنا یا جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے زیر کرنا ممکن ہی نہیں۔

پانچ اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خودمختاری ختم کر کے ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے بعد، قابض حکومت نے سیاسی ریزرویشن اور فارسٹ رائٹس ایکٹ کے نام پر مقبوضہ کشمیر کی مختلف برادریوں کو آپس میں لڑانے کی سازش رچائی۔ قابض بھارتی فورسز کا خیال تھا کہ وہ برادریوں کے نمبرداروں اور لیڈروں کو نوکریوں اور کوٹے کے نام پر ہڈی ڈالیں گے، اور یوں یہاں کے لوگ اپنی آزادی و خودمختاری کو بھول کر آپس میں الجھ جائیں گے۔اس سازش کو گجر برادری نے بروقت بھانپ لیا اور ان کی یہی فہم و فراست آج قابض فورسز کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت گجروں کی تعداد تقریباً بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان کی اکثریت خانہ بدوش طرزِ زندگی گزارتی ہے، لیکن پورے مقبوضہ کشمیر میں ان کی مہمان نوازی، تہذیب، انسان دوستی، محبت، سخاوت، وعدہ وفائی اور معاملہ فہمی کے چرچے ہیں۔ گجر برادری کی حکمت و دانائی کے باعث شیڈولڈ ٹرائب کی ہڈی قابض فورسز کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔ گجر برادری کے اکابرین نے دیگر تمام برادریوں کو سمجھایا ہے کہ یہ ہندوستان کی ایک سازش ہے، جس کا مقصد کشمیریوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ لہٰذا اس سازش کو چال ہی سمجھا جائے اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ نہ بنایا جائے۔

ظاہر ہے کہ ایسی بیداری اور سمجھداری کو ہندوستانی قابض مافیا کیسے برداشت کر سکتا ہے۔دمِ تحریر، یعنی ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ءکو، سارے مقبوضہ کشمیر میں گجر برادری کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ بے شمار گجر نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کیا جا چکا ہے۔ کئی ایک کو فوجی کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور بہت سے افراد لاپتہ ہیں۔ خواتین پر حملوں اور ان کی عصمت دری کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

راجوری کے محمد لیاقت، محمد اعظم، شوکت احمد اور عبدالقادر کو بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے ایک فوجی کیمپ میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ محمد لیاقت کی دونوں ٹانگیں توڑ دی گئیں۔ گجر افراد کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کرنا یا معذور کر دینا اب معمول بن چکا ہے۔اسی ہفتے، قابض فورسز نے 21 سالہ پرویز احمد گجر کو جموں کے مضافاتی علاقے سور چک میں بلاوجہ گولی مار کر شہید کر دیا۔ پرویز موٹر سائیکل پر اپنی بوڑھی ماں کیلئے دوائی لینے جا رہا تھا کہ پولیس نے اسے گولی مار دی۔

دوسری طرف، بارہ مولہ اور کپواڑہ میں حالیہ دنوں میں مزید دو کشمیریوں کی قیمتی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے **بٹ پورہ** میں متوالی پسوال کی 2 کنال 14 مرلہ اراضی اور ضلع بارہ مولہ کے علاقے سوپورمیں جاوید احمد ڈار کی تین کنال سے زائد اراضی اور رہائشی مکان ہتھیا لیا گیا ہے۔ہماری تمام کشمیری ہم وطنوں سے گزارش ہے کہ اپنے مشترکہ دشمن کی سازشوں کو سمجھیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے دور نہ ہوں، اختلافات کو آپس میں حل کریں اور متحد ہو کر دشمن کا سامنا کریں۔ ہمارے درمیان محبت، اخوت اور یگانگت کی ہزاروں سالہ تاریخ ہے۔ ہمیں اپنے پیاروں کو بھارتی قابض فورسز کے سامنے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

یہ وقت ہے کہ ہم سب متحد ہو کر دشمن کو یہ پیغام دیں کہ جب خواتین کی عزت و ناموس، جوانوں کی جانیں، اور بزرگوں کی پگڑیاں خطرے میں ہوں، تو "ہم سب گجر "ہیں۔ اگر تم نے ظلم ہی کرنا ہے تو آؤ، ہم سب کو مار ڈالو، ہم سب کو کاٹ ڈالو۔ ہم سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ ہم سب اس کی آزادی اور خودمختاری کے خواب دیکھتے ہیں۔ہمارے درمیان کوئی گجر، پہاڑی، بکروال، راجہ، تھکیال ، کیانی یا جنجوعہ نہیں، ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ہم سب اسی دھرتی پر قربان ہوں گے، اور اسی مٹی میں دفن ہوں گے۔ ہمارے ماں باپ ، ہماری خاک، ہمارے خون اور ہماری عزت و ناموس میں کوئی فرق نہیں۔تم پیلٹ گن کے ذریعے ہماری بینائی تو چھین سکتے ہو، لیکن ہماری دانائی نہیں۔ہم ازل سے بھائی بھائی ہیں، اور ہمیشہ بھائی بھائی رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے