گزشتہ روز یعنی ۳۰ جولائی ۲۰۲۵ کو بھارت کی طرف سے رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی شان میں گستاخی کے خلاف مقبوضہ کرگل میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ امام خمینی میموریل ٹرسٹ کی قیادت میں اس احتجاجی ریلی کا قافلہ امت مسلمہ کے ضمیر کی بیداری، اور درد کی ترجمانی کیلئے نکلا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی ریلی مرکزی جامع مسجد سے شروع ہوئی اور امام خمینی چوک سے ہوتی ہوئی لال چوک کرگل پر اختتام پذیر ہوئی ۔مظاہرین نے سپریم رہنما کے خلاف بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف نعرے لگائے ۔انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڑ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نعرے درج تھے۔حاجی اصغر کربلائی اور سید علی موسوی سمیت دیگر مقررین نے خامنہ ای کے حوالے سے ہتک آمیز مواد پھیلانے پر بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم اسلامی اتحاد اور قیادت کو کمزور کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلام دشمنوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای مسلمانوں کی عالمی مظلومیت کو صرف جغرافیے کے دائرے میں نہیں دیکھتے ، ان کا کہنا ہے کہ "ہم مسلمان کہلانے کے لائق ہی نہیں، اگر ہم ان آنسووں سے لاتعلق رہیں جو میانمار، غزہ، کشمیر یا دہلی میں بہتے ہیں۔”صاف ظاہر ہے کہ بھارت اور اسرائیل جیسے ریاستی جبر کے علمبردار، جو مسلمانوں کے اتحاد سے خائف ہیں، حق کی ایسی آواز کو برداشت نہیں کر سکتے۔
بھارت نے کئی دہائیوں سے کشمیر جنت ِ نظیر کو جہنم کی وادی بنا رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دمِ تحریر بھی ظلم کی آگ میں جل رہا ہے۔ وہاں نہ سحر کو چین ہے، نہ شام کو سکون، نہ قرآن کی عزت محفوظ ہے، نہ اذان کی عظمت، وہاں ہر دم صرف آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، اور زبانیں خاموش رہتی ہیں۔ بھارت کو رہبرِ مسلمین آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے پر بھی شدید اعتراض ہے ۔ یہی اعتراض اسرائیل کو بھی ہے کہ رہبرِ معظم فلسطین کیلئے آواز کیوں اٹھاتے ہیں؟
ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف بھارتی و اسرائیلی گستاخیوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ایرن پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے کے دوران ہندوستانی جاسوسوں کی گرفتاریوں کے بعد ہندوستانی سیاستدانوں اور میڈیا کی گستاخیوں میں نمایاں اضافہ قابلِ مشاہدہ ہے۔ ہندوستان کی طرف سے یہ گستاخیاں اس خاموش فکری جنگ کا تسلسل ہیں، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بیک وقت ہتھیاروں اور سازشوں سے لڑی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایران و اسرائیل جنگ کے دوران ایران پر ہونے والے حملوں میں استعمال ہونے والی معلومات کی درستگی اور وقت کی حساسیت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ معلومات اسرائیل تک کیسے پہنچتی رہیں؟ جب اسرائیلی اور امریکی ایجنٹ ایران میں داخل نہیں ہو سکتے، تو پھر ایران کے اندر ایسا کون تھا جو اسرائیل کو یہ ساری مدد فراہم کر رہا تھا؟
حالیہ ایران اسرائیل کا تجزیہ و تحلیل کرنے والے بخوبی سمجھتے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) عرصہ دراز سے ایران میں ترقیاتی منصوبوں، بندرگاہوں اور توانائی کے شعبوں کی آڑ میں ایک مضبوط جاسوسی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ وہی نیٹ ورک ہے جس نے اسرائیل کو ایران کے حساس مقامات پر حملوں کے لیے ضروری معلومات فراہم کیں۔
ایران کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ بھارت سے تجارتی لین دین اپنی جگہ لیکن بھارت اپنے نظریاتی حلیف اسرائیل کی خاطر ایران کے سینے میں خنجر مارنے کیلئے تیار ہے۔ اپنے مذموم مقاصد کیلئے بھارت نے ایران کے اعتماد کو سبوتاژ کرتے ہوئے ماضی میں ایران کی زمین کو کئی مرتبہ پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ کلبھوشن یادیو، ایک حاضر سروس بھارتی نیول افسر، را کا سینئر ایجنٹ، ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا اور اُس نے پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرپرستی کی ۔ آج ایران میں درجنوں بھارتی جاسوسوں کی گرفتاری ، در اصل ایران و بھارت کے درمیان اس نظریاتی دشمنی کی کھلی گواہی ہے۔ بھارت نے ایران پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خنجر ہمیشہ دشمن کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بعض اوقات وہ دوست کی آستین سے بھی نکلتا ہے۔
ایران کے بعد پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جس نے ہر موقع پر امت کے درد کو اپنی آواز دی۔ چاہے غزہ میں اسرائیلی جارحیت ہو یا کشمیر میں بھارتی بربریت، پاکستان کی زبان کبھی گنگ نہیں ہوئی۔ ایران و پاکستان نے ہر مشکل وقت میں دنیا کو دکھا ہے کہ ایمان، غیرت اور تدبیر مل جائیں تو دشمن کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔
مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، صرف ہتھیاروں کا نہیں، نظریات کا اشتراک ہے۔ ہندوتوا اور صہیونیت کا یہ اتحاد پوری مسلم دنیا کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی وزیر خارجہ کے خلاف بھارتی سیاسی دلالوں و میڈیا ایجنٹس کی نازیبا زبان، اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جو مسلمانوں کو نفرت، تعصب اور استہزا کا نشانہ بنانا ضروری سمجھتی ہے۔
ایرانی قیادت عرصہ دراز سے دیکھ رہی ہے کہ بھارتی سیاسی قوّتیں بظاہر دوستی کا عندیہ دیتی ہیں مگر پسِ پردہ پیٹھ میں خنجر گھونپتی ہیں؟ بھارت و اسرائیل کو ایسی مسلم قیادت ہر گز قبول نہیں جو انہیں مسلمانوں پر ظلم کرنے سے ٹوکے لہذا وہ ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف نازیبا الفاظ اور مختلف پروپیگنڈوں کا استعمال کر کے اس حقیقی عالمی و اسلامی قیادت کی عوامی مقبولیت کو کم کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہ لمحہ کسی معمولی سیاسی ردعمل کا نہیں، بیداری، بصیرت اور عملی اتحاد کا تقاضا ہے۔بھارت کے اس رویّے کے خلاف صرف مقبوضہ کارگل میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہر ممکنہ طریقے سے احتجاج ہونا چاہیے۔یہ بروقت احتجاج ہی ہماری زندگی کی علامت ہوگا ورنہ اگر آج ہم بیدار نہ ہوئے، تو کل ہمیں صرف تاریخ گونگے شیطانوں میں شمار کرے گی۔
آج پاکستان اور ایران کے پاس عالمِ اسلام کو بیدار اور متحد کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، ایک ایسا موقع جو شاید صدیوں میں ایک بار آتا ہےکہ وہ مل کر اسلامی دنیا کو ایک نئی سمت دیں اور باہمی اعتماد کے ساتھ دشمن کے مورچوں کی طرف سیاسی، سفارتی و اقتصادی محاز وں پر آگے بڑھیں۔اگر ہم نے آج رہبر مسلمین کی شان میں گستاخی پربے حسی اختیار کی، تو یاد رکھیں کہ بے حس قومیں تاریخ کے صفحات میں نہیں، مٹی کے نیچے دفن ہوتی ہیں۔
