
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر): غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ذہنی امراض میں مبتلا کشمیریوں کی تعدادمیں نمایاں طورپر اضافہ ہوا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کی طرف سے آج ”ذہنی صحت ” کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ نریندر مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے غیر قانونی اقدام کے بعد سے جموں وکشمیر میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوںپر ظلم و تشدد، بلاجواز گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل اورکشمیری خواتین کی عصمت دری کے واقعات اورانسانی حقوق کی سنگین پامالیوں نے کشمیریوں کی نفسیات کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں جبری گمشدگیوں کو بھی دہائیوں سے جاری تنازعہ کی ایک تلخ حقیقت قراردیا گیا ہے۔ گزشتہ 36 برس میں بھارتی فوجیوں نے8ہزارسے زائد کشمیریوںکو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ ہزاروں دیگر کو گرفتار، ظلم و تشدد کاشکار اور قتل کردیاگیاہے۔دوران حراست لاپتہ ہونے والے 2سے ڈھائی ہزار کے قریب کشمیری شادی شدہ تھے۔
