Input your search keywords and press Enter.

لہو لہان جنت – کشمیر کس کا ہے

کشمیر کا نام سنتے ہی جنگ ، لاشیں، حراستیں ، جبری گمشدگیاں ، حراستی قتل ، املاک کی تباہی و بربادی ، پیلٹ گن سے چھلنی ، بے بینائی لوگ، ظلم وجبر کے سائے میں پلتی ہوئی زندگیاں، لاپتہ شوہروں کی منتظر "نصف بیوہ خواتین”، انتظار میں بیٹھی وہ ماں جس کا بیٹا قابض فوج کے تاریک عقوبت خانوں میں مار دیا گیا، اجتماعی قبریں اور عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ذھن میں آتیں ہیں۔کشمیر جو کبھی ایشیا کا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا تھا آج دنیا کے خطرناک ترین تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کی وجہ سے اسلامی دنیا کی بڑی قوت پاکستان اور خطے کے اہم ترین ملک ہندوستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ اور دونوں ممالک کے عوام کے سروں پر ایٹمی جنگ کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔

جدید دنیا کے قدیم ترین تنازع کشمیر کے تین فریق ہیں، کشمیری عوام ، پاکستان اور ہندوستان۔ کشمیری عوام اپنے بنیادی انسانی حقوق حق آزادی ، حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان ان کی حق حریت کی حمایت کرتا ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کے نا مکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ قانون آزادی ہند کے مطابق مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔ مگر بر صغیر میں نو آبادیاتی نظام کے خاتمے پر سامراجی برطانیہ کی پرخاش اور اس خطے پر اپنا رسوخ قائم رکھنے کی خواہش میں اس نے "تقسیم کرو اور راج کرو "کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہندوستان سے سازباز کر کے لاکھوں کشمیریوں اور انکی آنے والی نسلوں کو جبر و استبداد کی آگ میں جھونک دیا۔ دوسری طرف یہ قانون ریاستوں کو اپنی آبادی اور جغرافیائی حالات کے مدنظر الحاق کرنے یا خود مختار رہنے کا حق دیتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے ریاست کشمیر کے جنوب سے مغرب کی جانب 1500 کلومیٹر سرحد پاکستان سے لگتی تھی جبکہ شمال میں ذرا سی زمین کی پٹی بھارت سے ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیری عوام کے مذھبی ، سماجی ، معاشی رشتے اور یہاں کے زمینی خدوخال پاکستان سے باہم مربوط ہیں۔

دوسری طرف بھارت کے نزدیک کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس کے پاس قبضے کا واحد جواز کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا وہ معاہدہ ہے جو پنڈت نہرو اور کشمیر کے ہندو راجہ ہری سنگھ کے مابین 26 اکتوبر 1947 میں طے پایا۔ یہ معاہدہ کئی وجوہات سے مشکوک حیثیت کا حامل ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ ایک غیر مشروط الحاق تھا۔ مگر کشمیریوں کا موقف ہے کہ معاہدہ کشمیری عوام کی صوابدید سے مشروط تھا۔ تاہم اسی معاہدے کو بنیاد بنا کر ہندوستان یکم جنوری 1948 میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متجدہ میں لے کر گیا۔ مگر 21 اپریل 1948 کو اقوام متجدہ کی کشمیر پر پیش کی گئی قرارداد 47 نے جس میں بھارت کو کشمیر میں استصواب رائے کروانے کا حکم دیا گیا اس معاہدے کی حیثیت کو مزید متنازعہ بنا دیا۔ اس قرارداد پر بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان نے کبھی کشمیر پر قبضے کا عندیہ نہیں دیا بلکہ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے مگر بھارت کا اب یہ موقف ہے کہ کشمیر سے اقوام متحدہ کا کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب ریاست کشمیر اس وقت تین حصوں میں منقسم ہے ۔ بھارت اس وقت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر قابض ہے جبکہ پاکستان 85،846 اور چین 37،555 مربع کلومیٹر علاقہ رکھتے ہیں ۔مگر چینی اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کے برعکس ہندوستان کی مقبوضہ وادی میں بے چینی اور مظاہرے اس بات کے غماز ہیں کہ کشمیری اکثریت ہندوستانی تسلط کو نا پسند کرتی ہے۔ جس کو دبانے کے لئے ہندوستان کی پر تشدد انسانیت سوز کاروائیاں جاری ہیں۔انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے مطابق 1989 سے لے کر اب تک تقریبا 1،00000 کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ جموں کشمیر کی سماجی تنظیموں کے اتحاد کے مطابق جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے افراد کی تعداد 8000 سے زائد ہو چکی ہے۔جبکہ 143،185 افراد حراست میں لے کر ہراساں کئے گئے جن میں سے تقریبا 8000 زیر حراست ہلاک کر دئے گئے۔خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے 110،042 واقعات سامنے آئے اور 103،043 سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ 10،000 سے زیادہ افراد لا پتہ ہیں۔

عالمی برادری کے اکثر حلقے ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں کی منظم نسل کشی سے آگاہ ہیں ، مگر چشم پوشی کا م لے رہے ہیں۔ دسمبر 2016 میں وکی لیکس کی جاصل کردہ سفارتی کیبلز نے انکشاف کیا کہ امریکی حکام کے پاس بھارتی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کئے گئے تشدد کے ثبوت تھےاور2005 میں ریڈ کراس کے عملے کی طرف سے امریکی حکام کو کشمیر میں 2002 سے 2004 تک سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں خفیہ طور پر زیر حراست افراد کے ساتھ کی گئی منظم زیادتی وتشدد کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا. بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ہندوستانی سیکیورٹی فورسز قیدیوں پر بد ترین جسمانی تشدد میں ملوث ہیں جس میں مار پیٹ، برقی کرنٹ لگانا اور جنسی تشدد شامل ہیں. رپورٹ کے مطابق یہ قیدی پاکستانی دخل انداز نہیں تھے ، جیسا کہ ہندوستان کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے بلکہ عام کشمیری شہری تھے۔ خود امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی شائع کردہ رپورٹ برائے انسانی حقوق 2010 میں ہندوستانی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں اور مبینہ حریت پسند نوجوانوں کے حراستی قتل کا حوالہ ملتا ہے۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ ہندوستان مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال کر یا جسمانی تشدد کے مختلف حربے استعمال کر کے جبری حراست میں لئے گئے عام شہریوں کو اعتراف جرم کروا کر عدالتی قتل کرتا ہے

اس جبر و تشدد کو ریاستی سرپرتی حاصل ہے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے مطابق ہندوستانی قانون کسی شخص کو دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کی اختیار دیتا ہے۔اس کالے قانون کے تحت کوئی فوجی کسی مشکوک فرد پر گولی خلا سکتا ہے، مشتبہ مکان کو نذر آتش کر سکتا ہے۔ بغیر وارنٹ کس مکان میں داخل ہو سکتا ہے اور گرفتار کر سکتا ہے اور اس سب کے لئے وہ قابل گرفت نہیں۔یہ دنیا کا سب سے زیادہ ملٹرائزڈ خطہ ہے ۔فوج کے لا محدود اختیارات کے باعث کسی کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ریاستی دہشت گردی کی اس سے بد ترین مثال کہیں نہیں ملتی۔ مزاحمت دبانے کے لئے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ انڈیا میانمار کی اور اسرائیل میں یہودی آبادکاری کی طرز پر ہندو انتقال آبادی کے ذریعہ کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلیاں کررہا ہے۔ پاکستانی حکام اور کشمیری اس اقدام پر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ گزشتہ برس دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق اس پر احتجاج کے لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے اقوام متجدہ کو ایک خط ارسال کیا گیا۔ اس سے پہلے 2015 اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری کے لئے تین ٹاون شپ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ یہ بی جے پی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ اعدادو شمار میں چھیڑ چھاڑ کے زریعے ، فوجیوں کے لئے "سینک کالونیاں ” بنا کر ، پناہ گزینوں کے شیلٹر ہاؤس بنا کر، ہندو انتہا پسند طبقے خصوصا آر ایس ایس سے وابستہ صنعتکاروں کو کشمیر میں صنعتی ‍اراضی لیز پر دے کر، اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35A (جو کشمیرکی خود مختاری اور بنیادی شہری حقوق سے متعلق ہیں )کے خاتمے کے زریعے بھی بھارت یہ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے

ان بد ترین حالات میں ایک عام کشمیری نوجوان کیا سوچ سکتا ہے ! کیا وہ ہمیشہ بیرونی ہاتھ کا منتظر رہے گا۔ جدوجہد آزادی کشمیر کی تاریخ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیری14 اگست 1947 سے قبل ہی قابض بھارت اور ڈوگرہ راجہ کی نیت بھانپ کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں فروری کا مہینہ خاص اہمیت کا حامل ہے اس مہینے میں کشمیر کی آزادی کے سرخیل مقبول بھٹ کو بھارتی حکومت نے سزائے موت دی تھی۔ مقبول بھٹ کشمیری آزادی کی تحریک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی تھی جنہوں نہ صرف کشمیری قوم کو منظم کیا ،بلکہ انہیں خالصتا قومی بنیادوں پر مدافعانہ مسلح جدوجہد کی تیاری کی تحریک دی ۔ان کی تحریک کی مقبولیت سے ہندوستان اس قدر خائف تھا کہ ان پر ایک بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کے قتل کا الزام لگا کر گرفتار کیا، انہوں نے ہندوستان کے ایسے تمام الزامات کی تردید کی ۔اس کے باوجود ان کو 11 فروری 1984 کو تہار جیل دہلی میں پھانسی دے دی گئی اور میت ان کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی۔ اس واقعہ نے بھارت مخالف جذبات کو ہوا دی ۔جس کے بعد کشمیر میں ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کشمیری مقبول بٹ کو جدوجہد آزادی کا ہیرو ماننے لگے۔ اور اس واقعہ کے چند سالوں کے اندر اندر کشمیریوں میں آزادی کی تحریک منظم اور مؤثر انداز میں ابھر کر سامنے آئی

34 سال گزرنے کے باوجود کشمیری اس جذبے سے مقبول بٹ کی برسی مناتے ہیں۔ ہر سال فروری میں قابض بھارت کشمیر میں مظاہروں اور مسلح کاروائیوں سے نپٹنے کے لئے خصوصی اقدامات کرتا ہے

اسی مہینے میں کشمیری افضل گرو کی برسی بھی مناتے ہیں۔ کشمیری نوجوان افضل گرو ایک میڈیکل کے طالبعلم رہ چکے تھے۔ اور وہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مبینہ حملے میں ملوث ہونے کے نام نہاد الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی سیکیورٹی اداروں کے مطابق وہ مبینہ طور پر اس حملے کے منصوبہ کار تھے۔ طویل عدالتی کاروائی کے دوران ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی۔ مگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے سزا کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا "اگرچہ افضل گرو کے خلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انھیں پھانسی دینا ضروری ہے "۔ وہی موسم ، وہی جگہ تہار جیل ، الزامات بھی نئے نہیں اور مہینہ بھی وہی فروری کا۔ جو کشمیریوں پر اکثر بھاری ثابت ہوتا ہے۔ 9 فروری 2013 کو افضل گرو کو پھانسی دے دی گئی ۔انہیں ان کے خاندان سے آخری ملاقات کا حق دیا گیا ۔ نہ ان کی میت خاندان کے حوالے کی گئی ، کہا جاتا ہے کہ انڈیا کشمیر کو ایک اور شہید نہیں دینا چاہتا تھا۔ یا پھر وہ متوقع عوامی ردعمل سے خائف تھا

مقبول بھٹ کی طرح ان کو بھی تہاڑ جیل میں ہی دفن کردیا گیا۔ انڈیا مخالف جذبات کو کنٹرول کرنے کی مکمل کوشش کی گئی اور کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ کشمیری عوام کے غصے ، جذبات اور بر انگیختگی کو تنہا کونے کے لئے کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی۔ کئی روز تک مقبوضہ وادی میں کوئی اخبار شائع نہ ہوا ۔کشمیر میں آج بھی مقبول بھٹ اور افضل گرو کی خالی قبریں ان کی منتظر ہیں

بھارت کے اس اقدام کے خلاف ہندوستان کے اندر سے بھی آوازیں اٹھیں۔ اور کہا گیا کہ افضل گرو کی پھانسی بھارتی جمہوری نظام پر بد ترین دھبہ ہے۔ ان کی ہلاکت پر کشمیر میں مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ بھارت میں تھنک ٹینک یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کواس پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کیا عوامل ہیں جو کشمیری نوجوانوں کو مسلح جدوجہد پر آمادہ کرتے ہیں۔جب کہ طاقت کا استعمال اس مسئلے کی شدت میں اضافہ کر رہا ہے

دوسری طرف پاکستان ہر دور میں دنیا کے سامنے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آ رہا ہے. مگر پچھلے چند سالوں میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی گئی ۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد سے دنیا کی سیاست میں جو ہلچل برپا ہوئی وہیں پاکستان کے اندر کچھ حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ آیا ہمیں کشمیریوں کی محض اخلاقی مدد کرنی چاہئے یا پھر عملی طور پر انکی جدوجہد میں ساتھ دینا چاہئے۔ 2016 میں مسئلہ کشمیر عام پاکستانی کے نقطہ نظر سے جاننے کے لئے ہوئے ایک سروے کے مطابق پاکستانیوں میں اس حوالے سےمجموعی طور پر مایوسی کا رجحان سامنے آیا۔ تاہم اسی سال نوجوان کشمیری علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کشمیر کی جدوجہد میں شدت آئی اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کی جانب دوبارہ توجہ مرکوز کی گئی

کشمیر آزاد ہو ، اسے اس کا حق خود ارادیت ملے یا پھر چناب فارمولا کی طرز پر کوئی روڈ میپ نافذ ہو۔ ہر صورت میں مسئلے کے تمام فریقوں خصوصا کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے

مگر ایسا تبھی ممکن ہوگا جب بھارت اس کے حل پر آمادہ ہو۔ اس کے لئے عالمی سطح پر بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے ہر ممکن طریقہ استعمال کرنا چاہئے۔ اس کے لئے آزاد کشمیر کے عوام کو مجموعی طورپرمتحرک کریں، برطانیہ میں مقیم کشمیری عوام کی جانب سے جاری "بلیڈنگ پیراڈائز” مہم یورپی برادری کو باور کرانے کے لئے اچھا اقدام ہے۔ معاشی بائیکاٹ بھی اہم حربہ ہے۔ اقوام عالم اور خصوصا او آئی سی میں شامل تمام مسلمان ممالک کو بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کرنے پر آمادہ کرنا چاہئے۔ رسمی طورپر کشمیر ڈے منانے سے آگے جاکر حکومتی اور سفارتی سطح پر کشمیریوں کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے

کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی برقرار کرتے ہوئے خود متحد رہنا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو تقویت ملے۔ افسوس یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر خود پاکستانی سیاسی جماعتوں کے اندر اتحاد نہیں۔ ماضی میں اس کا اس بات کا عملی اظہار 2016 میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں نظر آیا جب پاکستان پارلیمنٹ میں کشمیر کے حالات کے پیش نظر طلب کیا گیا اجلاس بغیر کسی اتفاق رائے کے ختم ہو گیا۔ جبکہ کچھ سیاسی عناصر نے اجلاس میں شرکت کرنے کو ہی اہم نہ گردانا۔ اس حوالے سے 35 ارکان پر مشتمل قومی کشمیر کمیٹی کا کردار بھی پریس ریلیز، یادداشتوں اور ہر سال 5 فروری کو انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے سے آگے نہیں بڑھ سکا

ثوبیہ عندلیب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے