Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات

جنوبی ایشیامیں مسئلہ کشمیر ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو اگر پھٹ گیا تو ناصرف جنوبی ایشیا میں تباہی و بربادی ہو گی بلکہ یہ تباہی پھیل جانے پر عالمی جنگ کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی کشمیر کے حالات سے متعلق شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خطاب کے بعد دنیا کے سامنے کشمیر کی صورتِ حال مکمل طور پر واضح ہو گئی ہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا ہے۔۔۔ اگر اب بھی بین الاقوامی سطح پر اس معاملے میں سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو دنیا کو ایک بڑی ہولناک جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا جوکہ یقینی طور پہ ایٹمی جنگ ہو گی اور اس تباہی سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ حقدار کو اس کا حق دیا جائے تاکہ اس خطے میں امن قائم رہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں اور وہ نہتے اور مجبور کشمیریوں پر غیر انسانی اور غیر اخلاقی دونوں طرح کے حربے آزما رہا ہے۔ کشمیری شہری یہ ظلم و ستم گزشتہ 72 سال سے سہہ رہے ہیں اور اپنے حق کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر مردانہ وار لڑ رہے ہیں۔انڈین آرمی کی تقریباً ساڑھے دس لاکھ سے زائد تعداد (جو ہر طرح سے مسلح ہیں) تحریکِ حریت کی آگ کو بجھا نہیں پا رہی اور نہ بجھا پائے گی۔ بھارت تحریکِ حریت کو ختم کرنے کی اور کشمیر پہ مکمل قبضہ کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے اور ان کوششوں میں اس کے ساتھ اب مزید خوارجی ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں جن میں اسرائیل سرِفہرست ہے۔ اس بار بھارت نے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے لیے وہی حکمتِ عملی اپنائی ہے جو کبھی اسرائیل نے فلسطین پہ قبضہ کرنے کے لیے بنائی تھی کہ سب سے پہلے کچھ اسرائیلی فلسطین جا کر آباد ہوئے پھر انہوں نے اپنی آبادی میں اضافہ شروع کیا اور مقامی فلسطینیوں سے منہ مانگی قیمتوں پہ زمینیں اور جائدادیں حاصل کرنا شروع کی اس کے بعد انہیں لالچ دیا اور پھر تیزی سے منہ مانگی قیمت پہ زیادہ سے زیادہ زمینیں خریدنے لگے اور زیادہ تر فلسطینی علاقوں پہ اپنا تسلط قائم کر لیا۔ بالکل یہی طریقہ اب بھارت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنایا ہے۔ بھارت میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کر دیا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیرکو نیم خودمختار ریاستی حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ اب ریاست جموں و کشمیر کی جگہ بھارتی حکومت کے زیرِ انتظام دو علاقے بن جائیں گے۔ایک جموں کشمیر کہلائے گا اور دوسرا علاقہ لداخ ہو گا جس کو ایک انڈین گورنر چلائے گا یہی نہیں اب انڈین تمام قوانین بھی مقبوضہ کشمیر پہ لاگو ہو جائیں گے جن کی پاسداری کرنا کشمیریوں پہ لازمی ہو گا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی A_35 شق بھی خود بخود ختم ہو گئی ہے جس کے تحت اب کوئی بھی بھارتی شہری جموں کشمیر میں جائداد بنا سکتا ہے اور نوکری کر سکتا ہے مزید یہ کہ وہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ A_35 کے تحت کوئی بھارتی نہ تو مقبوضہ کشمیر میں جائداد بنا سکتا تھا، نہ نوکری کر سکتا تھا اور نہ ہی سرمایہ کاری کر سکتا تھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پورے مقبوضہ کشمیر میں حالات انتہائی خراب ہو گئے ہیں۔ اب مودی حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تحریک حریت کو بندوق کے زور پہ کچل دیا جائے۔ مودی حکومت جانتی ہے کہ کشمیری اس آرٹیکل کے خاتمے کی بھرپور مذمت کریں گے اور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انڈین گورنمنٹ نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔۔۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے اور پھربین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ عالمی میڈیا کوریج پہ مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔سوشل میڈیا کی رسائی بھی بند ہے۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگارکو ئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پہ بلا اشتعال دلائے بھرپور فائرنگ اور گولہ باری شروع کر رکھی ہے اور کھلم کھلا جنیواکنوینشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے دریغ کلیسٹر بموں کا استعمال شروع کر دیا ہے جو بارودی سرنگوں سے کہیں زیادہ مہلک بم ہے۔ اس بم کے اندر سیکڑوں چھوٹے چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں جو بم پھٹنے پر پورے علاقے میں بکھر کر ہر جاندار شے کو ختم کر دیتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پہ بھارت ان کلسٹر بموں کا مسلسل استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے آزاد کشمیر میں بہت سے کشمیری شہید و زخمی ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج آزاد کشمیر میں موجود نیلم ڈیم کو بھی مسلسل نقصان پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب تک بری طرح ناکام رہی ہے۔ بھارت کی طرف سے یہ بلا اشتعال گولہ باری صرف اس لیے کی جا رہی ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی اس بدلتی صورتِ حال سے دور رہے اور کشمیری بھائیوں کی مدد کرنے کی قطعاً کوشش نہ کرے۔ پاکستانی افواج لائن آف کنٹرول پہ مکمل چوکس ہیں اور انڈین آرمی کی فائرنگ اور گولہ باری کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اس ضمن میںڈی جی آئی ایس پی آرنے دنیا کے سامنے انڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کو جنیواکنوینشن کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے اور کشمیری عوام پہ ظلم و ستم کرنے سے روکے۔ انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ انڈیا کسی بڑی دہشت گردی کا ڈھونگ رچا کر پاکستان پہ کوئی الزام لگا سکتا ہے اور جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔بھارت نے کشمیری سیاسی قیدیوں کو اب کشمیر سے باہر منتقل کر دیا ہے اور انہیں ان کے خاندانوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ پاکستانی حکومت بھارت کے حالات کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اگر بھارت نے یہ ظلم و ستم اور کنٹرول لائن کی خلاف ورزی ختم نہ کی تو پھر پاکستانی حکومت اور افواج اس جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے۔ بیشک پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کسی بھی قسم کی جارحیت پر وہ اپنے دفاع سے غافل نہیں ہو گا۔بلاشبہ انڈین آرمی تعداد میں پاکستان آرمی سے بہت زیادہ ہے لیکن اس میں جذبہء ایمان موجود نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کا دفاع دیدہ و نادیدہ قوتوں پہ منحصر ہوتا ہے بیشک بھارتی حکومت کے پاس دیدہ قوت موجود ہے لیکن وہ نادیدہ قوت اس کے پاس ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ نادیدہ قوت جذبہ ء ایمانی ہے۔ یہی وہ جذبہ ء ایمانی ہے جس کی بدولت کشمیری مجاہدین اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے