Input your search keywords and press Enter.

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا امریکی یونیورسٹی کے طلباءاور فیکلٹی ممبران سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب

سلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے امریکہ کی سیاسی قیادت اور سول سو سائٹی سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے اور جنوبی ایشیاءمیں انسانی المیہ ختم کر کے خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں اپنا کردر ادا کریں، امریکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے انسانیت کے خلاف جرائم سے آنکھیں نہ چرائے اور بھارت کے خلاف بی ڈی ایس کی تحریک شروع کر کے اِسے انسانی حقوق اور کشمیریوں کے جمہوری حق، حق خود ارادیت کے حصول میں مدد کر کے اس خطہ کو تباہ کن جوہری جنگ سے بچائے، اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ ہوئی تو ڈھائی ارب انسانوں پر مشتمل انسانی برادری متاثر ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار ا±نہوں نے امریکہ کی ایک نامور یونیورسٹی کے طلباءاور فیکلٹی ممبران سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے شرکاءکو مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بارہ قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں لیکن بھارت نے ان قراردادوں پر عملد درآمد کرنے کے بجائے گزشتہ 72 سال سے کشمیر کی سر زمین کو وہاں کے باشندوں کے لیے قتل گاہ بنا رکھا ہے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ا±ن کی علیحدہ شناخت، علیحدہ آئین اور دفعہ 35 اے کو ختم کر کے ا±نہیں جائیداد، سکونت، تعلیم اور ملازمتوں کو حقوق سے محروم کر دیا جو ا±نہیں بھارت اور پاکستان کی آزادی سے پہلے حاصل تھے۔ صدر آزاد کشمیرنے کہا کہ بھارت نے اس سال 2 اپریل کو رات کی تاریکی میں مقبوضہ کشمیر کے لیے نئے ڈومیسائل قوانین کا اعلان کر کے مقبوضہ ریاست کی آبادی کے تناسب کو بدلنے اور اسے اپنی کالونی بنانے کا عمل شروع کرنے کے لیے فوج کے سابق آفیسران، سول آفیسران اور ا±ن کے بچوں اور ایسے طلبہ کو کشمیر کا ڈومیسائل جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا جنہوں نے سات سال تک کشمیر میں تعلیم حاصل کی۔ بھارت کا یہ تازہ اقدام کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کرنے اور کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے اصل باشندے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ کشمیری ہیں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں اور اس وقت مقبوضہ ریاست کے عوام کو اپنے حق رائے دہی، حق ملکیت سے محرومی اور اپنی ہی سر زمین سے بے دخلی کا سامنا ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اگست کے بعد ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جن پر جیلوں اور عقوبت خانوں میں بد ترین تشدد کیا جا رہا ہے۔ محاصرے اور تلاشی کے دوران کشمیری خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کو محدود کر کے آزادی اظہار اور آزادی ابلاغ پر طر ح طرح کی قدغنیں عائد کر دی گئی ہیں۔ ا±نہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ فوج 230 حریت پسندوں کو مارنے کے لیے تعینات کر رکھی ہے جو محاصروں اور تلاشی کے بہانے پر پرامن شہریوں کی جائیدادوں کو تباہ کر رہے ہیں اور جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ بھارت کے یہ تمام اقدامات نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ جنیوا کنونشن اقوام متحدہ کے چارٹر 1960 کے عہد ناموں اور مختلف معاہدات، معاشی اور ثقافتی حقوق، انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کے قواعد اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت میں ہندو توا کے نام پر ہندو برتری کی لہر ایک حقیقت ہے اور یہ نظریہ گزشتہ صدی کے نازی نظریہ سے مماثل ہے جو در حقیقت ایک مخصوص طبقہ کو معاشی اور سماجی فوائد اور غیر معقولیت اور رجوعیت کو رواج دینے کی ایک کوشش ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمران پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے خلاف جارحیت کی کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف جوہر ی ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ خطے کی تین جوہری طاقتوں کے درمیان لداخ کے حساس خطہ میں کشیدگی نہایت خطرناک ہے اور اس کشیدگی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ اگرچہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے چین اور بھارت کے فوجی حکام اور سفارتکاروں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے لیکن بد قسمتی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے امریکی میڈیا اور امریکی کانگریس کے ارکان کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ کے چھ سو پچاس سے زیادہ اراکین نے ایک قرار داد کے ذریعے خبردار کیا کہ غیر قانونی اقدامات سے بھارت میں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مودی حکومت کسی جوابدہی کے خوف سے بے نیاز ہو کر تمام غیر قانونی اقدامات اس لیے کر رہی ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ امریکہ اور بھارت ایک دوسرے کے معاشی اور دفاعی حلیف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھارت کو اپنے مفادات کی نظر سے دیکھتا ہے۔کانفرنس کے شرکاءکے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدرسردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کے پنڈت کشمیری معاشرے کا حصہ ہیں اور ا±نہیں اپنے وطن کشمیر میں رہنے کا پورا حق ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی سے نہیں بلکہ ایک غیر مسلح اور نہتی قوم سے لڑ رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے سابق صدر جنرل مشر ف نے جو فارمولہ پیش کیا تھا وہ آج کے بدلے ہوئے حالات میں غیر متعلق ہے۔ کشمیر میں خود مختاری کی تحریک کے بارے میں ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ خود مختاری کے نظریے کے علمبردار جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام کی واضح اکثریت بھارت سے آزادی اور پاکستان کا حصہ بننے کی خواہش مند ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ مقبوضہ ریاست میں آج تک جتنے انتخابات ہوئے وہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ نہیں تھے اور صرف بھارت نواز جماعتوں کو حکومت دی گئی تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ ایک اور سوال کے جوا ب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کے شہریوں کی اکثریت بھی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں سے نالاں ہےلیکن ہندو توا کے متشدد علمبرداروں کے شر کے خوف سے ایک اکثریت خاموش ہے۔ ہمیں بھارتی سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے ا±س کی کی حمایت حاصل کرنی چاہیے اور کشمیریوں کی زندگی کو بچانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے