بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے لیے سازشیں کر رہا ہے۔ مسعود خان
صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہگذشتہ سال5 اگست کے بعد بھارت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی میں آضافہ ہو گیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے لیے جو سازشیں کر رہا ہے اسے روکنے کی ضروررت ہے بھارت کے ناپاک عزائم اور منصوبے انتہائی خطرناک ہیں انہیں اگر نہ روکا گیا تو تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوں کی قربانیوں کو شدید نقصان ہوگا دنیا کو بھارت کے ان حربوں اور ہتھکنڈوں کا نوٹس لینا چاہئے اور مسلہ کشمیر کے پُرامن اور دیر پا حل کے لیے کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک کشمیر یورپ کے زیر اہتمام آن لائن یورپین کنونش سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ایک سال سے مسلسل کرفیوں اور لاک ڈائون کے نتیجے میں بھارت نے مظلوم اورمحکوم کشمیری عوام کی زندگیوں کو اجیر بنا رکھا ہے ان مشکل اور نامسائد حالات میں بھی کشمیر عوام نے جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے یہ بھارت اور دنیا کے لیے بڑا واضع پیغام ہے کہ کشمیری آزادی کی جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں آزادی حاصل کر کے دم لیں گے بھارت کا ظلم اور دہشتگردی کشمیریوں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا بھارت کے لیے نوشتہ دیوار ہے کہ وہ کشمیر سے نکل جائے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی اور سفارتی کوششیں مسلہ کو زندہ اور آجاگر تو کر سکتی ہیں مگر مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بھارت کی نو لاکھ فوج کو کشمیر سے نکالاہوگا ایک مسلح فوج کو فوج ہی نکال سکتی ہے حکومت پاکستان کا بار بار یہ اعلان کرنا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ قدم آگے بڑائیں اور کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے آزاد کرایا جائے۔ کنونشن سے تحریک کشمیر یورپ کے مرکزی قائدین اور رہنمائوں جنرل سکریٹری انصر منظور حسین، نائب صدر میاں محمد طیب، ، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، سکاٹ لینڈ کے صدر کونسلر حنیف راجہ، یورپ کے نائب صدر میاں محمد طیب ، یورپ کے ڈپٹی جنرل سکریٹری فریدالدین لودھی ، ناروے کے صدر شاہ حسین کاظمی، اسپین کے صدر ناصر شہزاد، جرمنی کے صدر پرویز خالد، ڈنمارک کے صدر عدیل احمد آسی، دیگر ممالک سے فاروق بیگ، اکرام الحق چوہدری، ریاض شائد گھمن، محمد سہیل جرال، سجاد علی ، شفیق تبسم، منیر حسین ہاشمی، خالد بیگ اور دیگر نے خطاب کیا اور اپنے اپنے ممالک کی رپورٹ پیش کی 5 اگست کو یورپ بھر میں یوم احتجاج منانے کو فیصلہ کیا گیا اور آئیندہ کے پروگراموں کو حتمی شکل دی بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 13 جولائی 1931کے شہدائے کشمیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور دعا کی گی۔
