یوم الحاق پاکستان پر لائن آف کنٹرول پر احتجاج‘ دنیا بھر میںبھارت کیخلاف مظاہرے اور عالمی برادری کی بے حسی
دنیا بھر میں کشمیریوں نے گزشتہ روز یوم الحاق پاکستان منایا۔ اس دن کو منانے کا مقصد اس عہد کی تجدید کرنا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اس کے پاکستان سے الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی۔ اس موقع پر پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن سمیت پوری قوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک ہو گئی۔ دنیا بھر میں مظاہروں اور تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ کشمیریوں کی بھارتی حکومت کے مظالم کیخلاف جدوجہد میں ساتھ دیتے رہیں گے۔ کشمیریوں کا حق خودارادیت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے تسلیم کررکھا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیریوں کو ایک دن ضرور انصاف ملے گا۔ صدر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگا۔19جولائی1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کے گھر سرینگر میں کشمیری عوام کی نمائندہ تنظیم "مسلم کانفرنس” کے تاریخی اجلاس میںپاکستان سے الحاق کی قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ 27 اکتوبر1947ء کو بھارت نے کشمیر پر فوج کشی کی اور ریاست کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا۔اس پر بھرپور مزاحمت ہوئی تو بھارت یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جس نے کشمیریوں استصواب کا حق دیا۔ بھارت نے اس پر آج تک عمل نہیں کیا۔پہلے تو بھارت استصواب کی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل سے ٹال مٹول سے کام لیتا رہا پھر اس نے اپنے تسلط کو مضبوط بنانے کی سازشیں شروع کردیں۔ 50 کی دہائی میں اس متنازعہ وادی کو خصوصی حیثیت دیکر آئین میں بھارت کا حصہ ڈکلیئر کردیا۔ بھارت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا‘ آگے چل کر استصواب سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی اور ریاستی انتخابات ہوتے ہیں۔ یہ انتخابات قطعی طور پر استصواب کے متبادل نہیں ہو سکتے۔ ان میں ٹرن آئوٹ دس فیصد سے کم ہوتا ہے۔ یہ عجوبہ بھی ریاستی انتخابات میں ہوا کہ ایک امیدوار صرف چھ ووٹ لے کر جیت گیا تھا۔ انتخابات میں کشمیری عوام کی لاتعلقی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے۔
بھارت کو ان یکطرفہ طور پر کرائے جانیوالے انتخابات اور اسکے نتیجے میں حکومت بنانے والی اپنی کٹھ پتلی جماعتوں پر بھی اعتبار نہیں جس کا ثبوت آج کی صورتحال ہے۔ مقبوضہ وادی میں دو سال قبل نام نہاد جمہوری حکومت توڑ کر گورنر راج لگایا گیا۔ حالات پھر بھی بے قابو رہے تو صدر راج نافذ کر دیا گیا مگر کشمیری عوام بھارت کی من مانی کو تسلیم کرنے پر تیارنہیں ہیں۔ مودی سرکار کا کشمیریوں کو جبراً اپنے ساتھ ملائے رکھنے کا خبط ہے۔ کشمیر کو آئین میں بھارت کی ریاست قرار دیتے وقت جو خصوصی حیثیت دی گئی تھی اسکے تحت کشمیر کے باہر سے آکر کوئی شخص جائیداد خرید سکتا ہے نہ ملازمت کا حقدار ہے۔ گزشتہ سال مودی سرکار نے آئین میں ایک اور ترمیم کرکے یہ خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی۔ کشمیریوں کیلئے یہ ترمیم زہرقاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ اپنا آرام سکون تیاگ کر سڑکوں پر نکل آئے تو بھارت نے وادی میں مزید دو لاکھ سفاک فوجیوں کو مہلک ہتھیاروں سے مسلح کرکے وادی میں تعینات کر دیا۔ اب ایک سال سے کشمیری تمام تر انسانی حقوق سے محروم اور سخت پابندیوں کی زد میں ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا مقصد وہاں ہندوئوں کو لا کر بساتے ہوئے مسلمان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ بدترین کرفیو کے دوران کشمیریوں کی نسل کشی بھی کی جارہی ہے۔ اس پر کشمیری قیادت دنیا کے سامنے واویلا کرتی رہی مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔ اب ایک رپورٹ میں بھیانک انکشاف سامنے آیاہے جس کے مطابق اس مقصد کیلئے 30 ہزار ہندو شدت پسند وادی میں داخل کر دیئے گئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد پر مشتمل جتھے کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کیلئے پہلے ہی وہاں جاچکے ہیں۔ ہندو سیٹھ بھی بغلوں میں چیک بکس دبائے کشمیریوں سے جائیدادیں خریدنے کیلئے سرگرم ہیں۔
آکشمیری عوام بھارتی فورسز کے ہولناک مظالم کا شکار ہیں۔ پوری دنیا بھارت کے مظالم سے آگاہ ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ‘ امریکہ اور دیگر بڑے ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں اور قانون ساز اداروں کی جانب سے بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار اور مذمت کی جاتی ہے مگر بھارت کوئی اثر لینے پر تیار نہیں۔ پاکستان اسکے مظالم اور کشمیریوں کی مظلومیت کی بات کرتا ہے تو بھارت اسے آنکھیں دکھاتا اور جنگ کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگرپاکستان بھارت کے کسی دبائو میں آنے کیلئے تیار نہیں۔ بھارت نے گزشتہ سال 27 فروری کو وادی میں جارحیت کرکے دیکھ لی‘ اس پر اسے بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان ہمہ وقت بھارت کو ایسا سرپرائز دینے کیلئے تیار ہے۔ مگر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان جو بھی کوششیں کررہا ہے وہ ثمربار ہوتی نظر نہیں آتیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسی کے تحت 700 سال تک کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ بادی النظر میں تو ایسا ہی ہے مگر کل اللہ تعالیٰ کوئی سبیل نکال سکتا ہے۔ پاکستان کو اب کشمیر کی آزادی کیلئے مذاکرات سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ بھارت مذاکرات کیلئے بھی تیار نہیں‘ کشمیر پھر کیسے آزاد ہو سکتاہے۔ اس کیلئے کسی ماورائی فہم و فراست کی نہیں‘ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی کٹمنٹ کو حرزجاں بنانے کی ضرورت ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کی آزادی کیلئے آرمی چیف جنرل گریسی کو لشکر کشی کا حکم دیا تھا۔ اب شاید حالات ہمیں بھی اسی طرف دھکیل رہے ہیں ورنہ دوسری صورت میں فاروق حیدر کا 700 سال والا بیان سامنے رہنا چاہیے۔ عالمی برادری اور دیگر عالمی قوتیں اگر خطے میں امن کی خواہاں ہیں تو انہیں ظالم بھارت کے جنونی ہاتھوں کو روکنا ہوگا۔
کشمیر کو بھارتی تسلط سے چھڑانے کیلئے قائداعظم جیسی کمٹمنٹ کی ضرورت ہے
