راجہ نجابت حسین، بھرپور سفارتی مہم چلانے کا فیصلہ
بریڈ فورڈ (محمد رجاسب مغل )یوم الحاق پاکستان کے موقع پر کشمیر وپاکستان سمیت دنیا بھر میں تقاریب، سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام بنات الاسلام تنظیم کے اشتراک سے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں بڑی کانفرنس منعقد کی گئی برطانیہ میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ، مئیرز، کونسلرز اور انسانی حقوق کے لئے متحرک شخصیات کو خطوط اور ای میل کے ذریعے الحاق کی قرار داد، مسئلہ کشمیر کے بنیادی عوامل اور کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہی کے پیغامات دیئے گئے۔ یوم الحاق پاکستان کے موقع پر بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے سفارتی محاذ پر بھرپور مہم چلانے کا عزم کیا گیاتحریک حق خود ارادیت کے عہدیداران نے برطانیہ، یورپ، پاکستان اور آزاد کشمیر میں کانفرنسز، سیمینارز اور لابی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔آمدہ تین ماہ میں کشمیر کے لئے سفارتی سطح پر متحرک تنظیمیں، حریت کانفرنس، آزاد کشمیر کی لیڈرشپ، قومی اسمبلی کے ممبران اور انسانی حقوق کے لئے متحرک شخصیات کی معاونت سے مقبوضہ کشمیر کی عوام کا کیس عالمی سطح پر اٹھانے کا اعلان،تحریک حق خود ارادیت کی جانب سے 5اگست اور 15اگست کے مظاہروں کے لئے کل جماعتی رابطہ کمیٹی برطانیہ اور حریت کانفرنس کے ساتھ بھرپور معاونت کی جائے گی، تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 30ممالک کے خلاف جاری رپورٹ میں بھارت کو نظر انداز کرنے پر بھرپور لابی مہم چلائے جائے گی۔ لابی مہم میں برطانوی وزیر خارجہ و انسانی حقوق لارڈ طارق احمد، حکمران جماعت کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی جیمز ڈیلی، آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم، لیبر فرینڈز آف کشمیر کے چیئرمین ایم پی اینڈریو گوون، ایم پی ڈومینک راب کاور دیگر ممبران پارلیمنٹ، وزرائئ کوو خطوط، ای میل کے ذریعے برٹش کشمیریوں کے جذبات اور مقبوضہ کشمیر کے حقیقی حالات بالخصوص 5اگست سے اب تک بھارت کے اقدامات اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بریف کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر پاکستانی میڈیا اور مختلف چینلز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کشمیری دنیا بھر میں 19جولائی کو تجدید عہد کے طور پر منا رہے ہیں لیکن دوسری طرف حکومت پاکستان نے عالمی سطح پر کشمیر پرکمزور خارجہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔راجہ نجابت حسین نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان آل پارٹیز کانفرنس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اورحریت قیادت کو بھی شامل کیا جائے۔ 5اگست کو اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس بلائیں اور انہیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظفرآباد لے کر جائیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں وفد عالمی برادری کو متحرک کرنے کے لئے دنیا بھر میں بھیجا جائے جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر، کشمیری و حریت قیادت بھی شامل ہو۔ اس وقت 1947ء والے حالات نہیں لہذا حکومت پاکستان کو کشمیری قیادت کو ساتھ رکھ کر عالمی سطح پر ہر فورم کو متحرک کرتے ہوئے بھرپور اور جارحانہ انداز میں سفارتی مہم چلانا ہو گی۔ اقوام متحدہ، یورپین یونین، انسانی حقوق کے اداروں، او آئی سی، اقتصادی فورمز اور طاقتور ممالک میں لابی کے لئے مؤثر حکمت عملی کے ساتھ نئے انداز میں اقدامات اٹھانے ہوں گے۔معروف کشمیری رہنماء راجہ نجابت حسین نے مزید کہا کہ اگر حکومت پاکستان جارحانہ پالیسی اپنائے اور کشمیری قیادت کو بھی شامل رکھے تو بیرون ملک مقیم کشمیری بھی ہر سطح پر معاونت کریں گے۔ اس موقع پر چیئرمین تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل راجہ نجابت حسین اور دیگر تحریکی عہدیداران نے 19جولائی کی قرارداد پاس کرنے والے تمام کشمیری قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے کشمیریوں کے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کر کے ایک واضح مشن دیا تھا جس کی تکمیل کے لئے آج تک کشمیر جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس مشن کی تکمیل تک یہ جدو جہد جاری رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر ایک دن ضرور بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ عالمی برادری نے7دہائیاں قبل کشمیریوں کا حق خود ارادیت کا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں یہ حق دلانے کا وعدہ کیا تھا جس کی تکمیل آج تک نہ ہو سکی۔
