جو حکمت عملی اختیار کی اُس کے بھی دو پہلو ہیں۔ایک طرف یہ حکمت عملی شدید جبر،ظلم اور بربریت کی ہے۔دوسری طرف اس میں ایک شاطرانہ چال بھی پوشیدہ ہے۔ہندوستان نے کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کے لیے جس انتہا پر جانے کا فیصلہ کیا،اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ دنیا کی نظر یں اس بربریت پر ٹھہر جائیں۔دنیا اس کی مخالفت کرے۔
دنیا بھر کی سول سوسائٹیاں،ہفتوں تک جاری رہنے والی کرفیو کی پابندیوں، ناکہ بندیوں، تعلیمی اداروں کی بندشوں ،بیماروں کے ہسپتال تک نہ پہنچ پانے،فصلوں کے، منڈیوں تک رسائی کو مسدود کردیے جانے اور ایسے ہی سیکڑوں استبدادی اقدامات کی مذمت میں لگ جائیں اور ان پابندیوں کے ہٹائے جانے کا بیانیہ ہی واحد بیانیہ بنا رہے اور اس سب میں جو اصل اور تاریخی موضوع کشمیر کے حق خود ارادیت کا ہے وہ زیر بحث ہی نہ آئے بلکہ دنیا کا ذہن اس طرف جائے ہی نہیں۔
کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کا موضوع ہی دنیا کی توجہ حاصل کرے۔چنانچہ اور ہوا بھی یہی۔جہاں تک کشمیر میں حالیہ پابندیوں کا تعلق ہے تو یہ پابندیاں خواہ وہ کرفیو یا تحریر و تقریر پر عائد قدغنیں،یا آمدورفت میں حائل رکاوٹیں،ظاہر ہے کہ اس قسم کی پابندیاں ہمیشہ تو نہیں عائد رکھی جاسکتیں۔جلد یا بدیر ان کو ہٹانا پڑے گا۔
آئین کی دو شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں مقبوضہ لداخ کا بغیر اس کی کسی اسمبلی کے،اور مقبوضہ وادیٔ کشمیر کو اس کی اسمبلی کے ساتھ ،اپنی یونین کا حصہ بنالینے کے اقدام کو ہندوستان کی 72سالہ کشمیر پالیسی کو ایک تازہ تر مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہندوستان کی سیاسی قیادت نے پچھلے72 برسوں میں کم از کم ہندوستان کے نقطۂ نظر سے بڑی حد تک ایسی سوچی سمجھی کشمیر پالیسی پر عملدر آمد کیا ہے جس پر بحیثیت مجموعی اس سیاسی قیادت،پارلیمان اور رائے عامہ کا اتفاق رہا ہے۔
اس پالیسی کے جو پہلو اتفاق رائے کے حامل نہیں بھی تھے ان سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑی خوبصورتی سے احتراز برت لیا گیایا اس میں ترمیم کرلی گئی۔جہاں جہاں جھَول تھے ان کو دور کرلیا گیا۔تفصیلات اور باریک نکتوں پر اختلاف ضرور برقرار رہا لیکن موٹے موٹے نکات پر اتفاق رائے بھی حاصل کیا جاتا رہا۔ہندوستان کی حکمت عملی کا یہ سفر اب آرٹیکل 370 کے خاتمے تک پہنچا ہے ۔اب بھی اختلاف رائے کسی نہ کسی دائرے میں موجود ہے۔ لیکن 1947سے 2019 تک ایک سفر کے نقوش بھی باآسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔
1947 میں برصغیر کی دو ملکوں میں تقسیم لازماً ان کے درمیان مبارزآ رائی اور مخاصمت کا پیش خیمہ بننے کا ذریعہ نہیں تھی۔چنانچہ قائد اعظم کا خیال تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندوستان اُسی طرح کے اچھے پڑوسی ثابت ہوں گے جس طرح کے دو پڑوسی امریکہ اور کینڈا ہیں۔جواہر لعل نہرو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اشتراک کو خطے اور عالمی امن اور ترقی کا ذریعہ قرار دے رہے تھے ۔البتہ تقسیم ہند جس طرح عمل میں لائی گئی اور اس کے ساتھ جس قسم کے مسائل نے جنم لیا وہ دراصل اس مخاصمت اور معاندانہ تاریخ کی بنیاد بنے جو ان دونوں ملکوں کے درمیان سات عشروں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔
تقسیم کے وقت جموں و کشمیر مسلم اکثریت پر مشتمل ریاست تھی۔یہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کی سرحدوں سے متصل بھی تھی لہٰذا تقسیم کے پلان اور منطق دونوں کی رُو سے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ با آسانی ہوسکتا تھا۔مگرمہاراجہ ہری سنگھ کے اپنے منصوبے تھے۔اُس نے چند ہفتے آزاداور خود مختار کشمیری ریاست کے قیام کی کوشش کی لیکن ریاست کی مسلم آبادی کے ایک بڑے حصے کی بغاوت اور پاکستانی علاقوں سے قبائلیوں کی لشکر کشی کے پس منظر میں اُس نے ہندوستان سے مدد طلب کرلی۔
ہندوستان نے کس طرح اُس کو الحاق پر آمادہ کیا اور الحاق کی دستاویز پر کس طرح سے دستخط کرائے گئے اس کے بارے میں اب تاریخ نویس بہت سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔کشمیر میں ایک طرح کی خانہ جنگی 1947 کے آغاز ہی سے شروع ہوچکی تھی۔پاکستان کی طرف سے قبائلی لشکروں کے حملے اور اُن کی کاروائیوں کو بنیاد بنا کر مہاراجہ جو اس سے پہلے پاکستانی انتظامیہ سے بھی اپنی آزاد ریاست کے حوالے سے سلسلۂ جنبانی شروع کرنا چاہتا تھا، مدد کے لیے ہندوستان کی طرف مائل ہوا۔ہندوستان خود بھی کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس نے مہاراجہ سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اکتوبر 1947ء کے آخری ہفتے میں ہندوستانی حکومت اور مہاراجہ کے درمیان بات چیت جاری رہی۔مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے اور اس کے ساتھ ہندوستان کی فوج ریاست میں داخل ہوگئی ۔بعض تاریخ نویسوں کا خیال ہے کہ الحاق کی دستاویز پر دستخط ہونے سے قبل ہی ہندوستانی فوج کشمیر میں داخل ہوچکی تھی۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دستاویز میں یہ بھی واضح کردیا گیا تھا کہ یہ ایک عبوری الحاق ہوگاجو بعد ازاں عوام کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ 31 دسمبر 1947 کو ہندوستان ہی کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کائونسل میں لے کر گیا۔
یکم جنوری 1948کو سیکیورٹی کائونسل نے کشمیر کے مسئلے پر غور کیا۔15 جنوری کو ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اپنے موقف پیش کیے۔17جنوری1948 کو سیکیورٹی کائونسل نے قرارداد نمبر 38اور 20 جنوری کو قرارداد نمبر 39 منظور کی۔پہلی قرارداد میں ہندوستان اورپاکستان سے کہا گیا کہ وہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکیں۔ ساتھ ہی صورت حال میں کسی بڑی تبدیلی واقع ہونے کی صورت میں،ان سے کائونسل کوآگاہ کرنے کو کہا گیا تھا۔دوسری قرارداد کی رو سے سیکیورٹی کائونسل نے ایک تین رکنی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کا جائزہ لینا تھا۔اس کمیشن کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 34 کے مطابق کردار ادا کرنا تھا۔
اس کا کام کسی ایک فریق کے موقف کے حق میں فیصلہ دینا نہیں تھا۔21 اپریل1948کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کائونسل نے قرارداد نمبر 47 منظور کی جس میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار کی تجویز دی گئی۔اس کی رُو سے پہلے پاکستان کو کشمیر سے اپنے لوگوں کو نکالنا تھا۔دوسرے مرحلے میں ہندوستان کوکشمیر میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم سطح پر لانا تھا اور تیسرے مرحلے میں کشمیر میںرائے شماری کے انتظامات کیے جانے تھے۔
پاکستان اور ہندوستان دونوں نے ان تجاویز کو اپنی اپنی وجہ سے رد کردیا۔اس سے قبل جنوری 1948 میں اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان(UNCIP) وجود میں آچکا تھا۔یکم جنوری 1949 کو پاکستان اور ہندوستان کی فوجوں کے درمیان فائر بندی ہوئی۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان(UNCIP) نے 5 جنوری 1949کو اعلان کیا کہ جموں و کشمیر کے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔
سیدجعفر احمد
جاری۔۔۔
