Input your search keywords and press Enter.

کشمیر ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند – حصہ 2

گزشتہ سےپیوست

28 اپریل 1949کو آزاد کشمیر نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کراچی پر دستخط کیے جس کے تحت دفاع اور خارجہ امور نیز گلگت و بلتستان کے جملہ امور پاکستانی حکومت کے کنٹرول میں آگئے۔1950 میں ہندوستان نے اپنا آئین نافذ کیا ۔اس نے آرٹیکل 370 کو آئین کا حصہ بناتے ہوئے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت اور داخلی خود مختاری دینے کا اعلان کیا۔ 1956میں جب آئین میں کئی اہم ترامیم کی گئیں اُس وقت بھی اس آرٹیکل کو برقرار رکھا گیا۔

5اگست 2019 کو اس آرٹیکل کے حذف کر دیے جانے کے نتیجے میںکشمیر کا یہ خصوصی مقام جو ہندوستان کے آئین نے اس کو دیا تھا ختم ہوگیا۔مذکورہ آرٹیکل کی رُو سے یونین حکومت یا مرکزی حکومت کا کشمیر میں عمل دخل الحاق کی اُس دستاویز کی روشنی میں طے پایا تھا جو ہندوستانی حکومت نے مہاراجہ کے ساتھ طے کی تھی۔اس دستاویز کے مطابق ریاستِ جموں و کشمیرمیں مرکز کا عمل دخل دفاع،امورِ خارجہ اور مواصلات تک محدود تھا۔

اب اس آرٹیکل کے حذف کردیے جانے کے بعد وادی اور لداخ جن کو الگ کردیا گیا ہے براہِ راست طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے قرار پائے ہیں۔تقسیم ہند کے فوراً بعد رائے شماری کے موقف کو اختیار کرنے اور آرٹیکل370کو آئین کا حصہ بنانے کے بعد ہندوستان میں ان دونوں فیصلوں کے حوالے سے اختلافِ رائے موجود رہا۔پہلے تو ہندوستان نے رائے شماری کے موقف سے انحراف کے راستے تلاش کیے۔1950میں جواہر لعل نہرو ہی کی طرف سے ’تقسیم اور رائے شماری کی تجویز دی گئی ۔

وزیراعظم لیاقت علی خان نے اس کو اس شرط کے ساتھ قبول کرنے کا عندیہ دیا کہ اس فارمولے پر عملدرآمد سے پہلے ریاست کو ایک غیر جانبدار انتظامیہ کے کنٹرول میں دے دیا جائے ۔ہندوستان اس شرط کو ماننے پر تیار نہیں ہوا۔ستمبر 1951میں ریاست جموں و کشمیر میں انتخابات منعقد کروائے گئے جن میں شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے تمام سیٹیں جیت لیں۔ ہندوستان کی طرف سے ان انتخابات کو کشمیر کے اس کے ساتھ الحاق کی توثیق قرار دیا گیا ۔لیکن ہندوستان کی یہ پوزیشن نہ تو پاکستان کے لیے قابل قبول تھی اور نہ ہی اقوام متحدہ میں قبولیت حاصل ہوئی۔ 

اسی طرح 1953میں جب پاکستان نے مغربی دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹو میں شمولیت کی کوششوں کا آغاز کیا تو نہرو نے واضح طور سے یہ اعلان کیا کہ پاکستان یا تو کشمیر پر رائے شماری کے آپشن کو پیش نظر رکھے یا امریکہ کے فوجی اتحادوں میں شامل ہو۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان فرار کے راستے تلاش کرتا رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر کو ایک نئی جہت اس وقت حاصل ہوئی جب 1965کی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند طے ہوا جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے مفتوحہ علاقے واپس کیے لیکن اس کے ساتھ ہی کشمیر میں ایک قوم پرست گروپ امان اللہ خان اور مقبول بٹ کی قیادت میں ’رائے شماری فرنٹ‘ کے نام سے سامنے آیا جس کے عسکری وِنگ نے جموں اینڈ کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ(NLF) کے نام سے آزاد کشمیر میں کام کرنا شروع کیا۔

1971کی پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کے بعد 1972 میں ہونے والے شملہ معاہدہ میں کشمیر کی بابت یہ فیصلہ ہوا کہ وہاں سیز فائر لائن، لائن آف کنٹرول کے طور پر قبول کی جائے گی۔ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہوا کہ کشمیر کے حتمی فیصلے کے لیے دونوں ملک دوطرفہ بات چیت پر انحصار کریںگے۔معاہدہ شملہ سے ہندوستان اور پاکستان دونوں کو کچھ نہ کچھ حاصل ہوا۔ہندوستان نے اس کی یہ تشریح کی کہ اس معاہدے کے بعد پاکستان کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ یا کسی بھی تیسرے فریق سے رجوع نہیں کرے گا۔

پاکستان نے ہندوستان کی اس تاویل کو کبھی قبول نہیں کیا جبکہ خود اس نے معاہدہ شملہ کے اس پہلو کو زیادہ اہمیت دی کہ ہندوستان جو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ریاستی انتخابات کو رائے شماری کا نعم البدل قرار دے کر مسئلہ کشمیر کے حل ہوجانے سے تعبیر کرتا رہا تھا،اس معاہدے کے بعد کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔1980کے عشرے میں پاکستان نے کشمیر میں اُس وقت جہادی سرگرمیوں کی پشت پناہی شروع کی جب افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور مغربی دنیا کی پشت پناہی سے چلائی جانے والی جہادی مہم اختتام کو پہنچ رہی تھی۔

پاکستان میں ایسی تنظیموں کی تشکیل اور پشت پناہی کی گئی جو ہمارے پالیسی ساز اداروں کی دانست میں کشمیر میں آزادی کی مہم کو آگے بڑھا سکتی تھیں۔ہندوستان نے اس کو بیرونی مداخلت قرار دیا اور دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف بھرپور مہم چلائی ۔نتیجتاً پاکستان پر بیرونی دبائو پڑا اور 5اگست 2019کے ہندوستانی اقدام سے پہلے پاکستان کو ان تنظیموں سے اپنے تعلق کے خاتمے کا عالمی برادری کو یقین دلانا پڑا ۔ایک لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان نے جموں اور لداخ پر قبضہ کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کمزوری سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود پاکستان گذشتہ 72سال سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کامیابیاں حاصل کرسکا ہے اور اس کو کن دشواریوں کا سامنا رہا ہے؟غیر جانبدار ہوکر سوچا جائے تو یہ تکلیف دہ نتیجہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ بدقسمتی سے ہماری حکومتیں کشمیر کے حوالے سے کوئی مربوط اور قابل عمل حکمت عملی وضع نہیں کرسکی ہیں۔ہم ایک ہی سانس میں کشمیر کی آزادی کی بات بھی کرتے ہیں اور کشمیر کو اپنی شہہ رگ بھی قرار دیتے ہیں۔

جب ہم کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو اس میں یہ امکان بھی پوشیدہ ہوتا ہے کہ کشمیری مستقبل میں ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے بجائے اپنی آزادی کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔جب ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات کررہے ہیں۔ہم نے یہ دونوں متضاد پوزیشنیں بیک وقت اختیار کررکھی ہیں۔ان دونوں پوزیشنوں کے ساتھ عالمی برادری کو ہمارے نقطہ نظر کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

کشمیر کی صورتحال آج جہاں تک پہنچی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے ایک ایسے پہلو کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے جو اکثر لوگوں کے پیش نظر نہیں ہوتا اور وہ پہلو یہ ہے کہ کشمیر صرف کسی خطہ زمین کا نام نہیں ہے ،یہ صرف ایک ایسے علاقے کا نام نہیں ہے جس پر دو ملکوں کا دعویٰ ہے اور وہ دونو ں اس کے حوالے سے کبھی بات چیت کرتے ہیںاور کبھی جنگوں میں الجھ جاتے ہیں۔ کشمیر جیتے جاگتے انسانوں کی سرزمین ہے اور یہ انسان ہی اس سرزمین کے اصل مالک ہیں۔ 

صدیوں کے ارتقائی سفر میں تاریخ کا یہ فیصلہ تو بار بار سامنے آچکا ہے کہ کسی سرزمین کا فیصلہ اگر اس کے اصل باشندوں نے نہ کیا ہو تو وہ فیصلہ زیادہ عرصے قائم ودائم نہیں رہتا ۔ سو اس مسئلے کا حل کئی شکلوں میں نکل سکتا ہے مگر ان میں سے وہی شکل قابل عمل اور دیر پا ہوگی جس کی تلاش اور حـصول میں کشمیر یوں کا کلید ی کردار ہوگا ۔ 

ماضی میں بعض مواقع پر پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر پر کسی نتیجے تک پہنچنے کے قریب بھی پہنچے مگر وہ لیاقت علی خان اور نہرو کے درمیان سلسلہ جنبانی ہو یا جنرل پرویز مشرف اورمن موہن سنگھ کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں اجاگر ہونے والا فارمولا ہو ، یہ کاوشیں اس لئے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں کیونکہ ان میں خود کشمیری شامل نہیں تھے۔

آج بھی کشمیر کا مسئلہ باوجود اس کے کہ ہندوستان من مانی کر کے بڑی حد تک اپنے لئے استوار کر چکاہے اور باوجود اس کے کہ پاکستان کسی بڑے بریک تھرُو کی تلاش میں ہے، یہ گتھی سلجھنا صرف اسی وقت شروع ہوگی جب اس میں کشمیر ی اور ان کی تنظیمیں خود فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آئیں گی ۔ اور ان کے اس کردار کو ہندوستان اور پاکستان دونو ں تسلیم کریں گے۔

سید جعفر احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے