بھارت مقبوضہ کشمیرمیں رائے شماری پر اثر انداز ہونے کیلئے اپنے مذموم ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے
سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 27 جولائی2020ء) بھارت میں مودی کی فسطائی حکومت مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب کوبگاڑنے اورمقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے ظالمانہ اقدامات کررہی ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جوہندو بالادستی کے ہندوتوا نظریے پر سختی سے عمل پیرا ہے ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے گزشتہ سال 5اگست کو بھارتی آئین کی دفعہ 370کومنسوخ کر دیاتھا کیونکہ کشمیرمیں مودی کے مذموم عزائم کی تکمیل میں یہ دفعہ بنیادی رکاوٹ تھی۔
رپورٹ میں متعدد اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے جو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مذموم ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے گذشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد کئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق بھارت نے غیر کشمیری ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر لاکر آباد کرنے کیلئے نیاڈومیسائل قانون متعارف کرایا ہے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میںاسمبلی میں مسلم نشستوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے انتخابی حلقوں کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کشمیریوں کو سرکاری ملازمتوں اور دیگر مواقع سے محروم کرنے کا حوالہ بھی دیاگیا ہے جو کہ کشمیرمیں سرکاری محکموں میںکشمیری مسلمانوںکی اکثریت کو کم کرنے کا ایک اور ہتھکنڈہ ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کشمیریوں کے قتل عام ، غیر کشمیریوںکو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس کے اجرا، کشمیریوں کی اراضی پر قبضہ اور مقامی نوجوانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کرنے سمیت ان تمام اقدامات کا مقصد مستقبل میں رائے شماری پر اثرانداز ہونا ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دینے کیلئے مقبوضہ علاقے میں رائے شماری کرانے کا وعدہ کر رکھا ہے ۔
