Input your search keywords and press Enter.

اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرے، ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ

ٹیکساس (جنگ نیوز ) ڈیلاس ٹیکساس میں جنوبی ایشیا کے ممالک میں جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی آرگنائزیشن South Asia )Democracy Watch (SADWکے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ماہانہ اجلاس میں کشمیر کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوے راجہ مظفر نے کہا کہ5اگست 2019کو بھارتی حکومت نے دفعہ 370کا خاتمہ کر کے ایک طرف کشمیریوں کی روز مرہ زندگی مشکل بنائی ،جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں اور پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈالا ۔ بھارت کے اس یکطرفہ خطرناک احمقانہ اقدام سے جنوبی ایشیا کا امن بھی خطرے میں پڑا، مگر مجھے آپ کو یہ بتانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہا کہ بھارتی حکومت کے ان متنازع اقدامات سے کشمیری عوام کے لیے مکمل آزادی کے حصول کی راہ پہلے سے زیادہ ہموار اور آسان ہو گئی ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں کشمیر کو الگ ایجنڈا میں شامل کرنے پر راجہ مظفر نے جنوبی ایشیا کے ممبر ممالک ‏Afghanistan, Bangladesh, Bhutan, India, Maldives, Nepal, Pakistan, and Sri Lanka. کے امور پر کام کرنے والی تنظیم کا شکریہ ادا کیا ۔ راجہ مظفر نے اپنا موقف بیان کرتے ہوے کہا کہ بھارتی اقدام سے اقوام متحدہ کی وہ تمام قراردادیں جو بھارت کی شکایت اور اس کی مرضی و منشا سے منظور ہوئیں اور جن کی رو سے کشمیریوں کو صرف بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک سے الحاق کا حق دیا گیا تھا وہ اب بے اثر اور غیر متعلق ہو گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکلی 370 ‎کے خاتمہ کے ساتھ ہی الحاق کا معاہدہ تصور اور شملہ سمجھوتہ سمیت تمام بین المملکتی معاہدے ختم ہو گئے ہیں ۔ اب جموں کشمیر کے عوام کے پاس اور خود پاکستان کے پاس دو ہی آپشن رہ گئے ہیں مکمل آزادی یا پاکستان سے الحاق کا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ کشمیریوں کی مکمل آزادی کے آپشن کی حمایت کرے ۔ اپنے زیر انتظام کشمیر کے حصوں کو یکجا کر کے کشمیری حکومت کو کشمیری عوام کی نمائندہ آزاد حکومت کے طور خود تسلیم کرے ۔ اس اقدام سے پاکستان کا اپنا امیج بہتر ہو گا کشمیر زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا بننے کی بجائے ایک قوم کی آزادی کے مسئلہ کے طور دنیا کے سامنے آئے گا ۔ راجہ مظفر نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ یہ تنظیم ممبر ممالک کے آپسی جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہتی ،لیکن اگر پاکستان بھارت کی طرح اپنی بہتر سالہ پالیسی تبدیل کرے تو پھر کشمیر بین المملکتی مسئلہ نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کانفرنس میں پاکستانی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حکومت کو کشمیریوں کے احساسات اور مطالبہ سے آگاہ کریں ۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے