دنیا کاکوئی جگہ کوئی علاقہ، خطہ ایسا نہیں جہاں مسلمان بے بس نہ ہو اور انہیں قتل نہ کیا جا رہا ہے۔ ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا رہی ہے فلسطین میں ستر سال ، افغانستان میں سترہ سال ، عراق میں چودہ سالوں سے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہم ہیں کہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ افغانستان کی بربادی کے بعد دشمنی کا یہ سلسلہ رکا نہیں، یکے بعد دیگرے عراق، لیبیا بعدازاں شام کو وہاں بسنے والے مسلمانوں کیلئے خون آشام بنا دیا گیا۔ یہاں پر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے سے ان کی اسلام اور مسلمان کے خلاف آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ داعش کا فتنہ چھوڑ دیا گیا۔ ہر اسلامی ملک میں یہود و ہنود کی مدد سے داعش داخل ہو چکی ہے۔ جو بے گناہ لوگوں کا قتل کر رہی ہے۔ المیہ یہ کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم(او آئی سی) عضو معطل بن کر رہ گئی ہے اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان،61 اسلامی ریاستیں تیل کی دولت و معدنی ذخائر سے مالا مال یہ اسلامی ملک انتشار باہمی رنجشوں و رقابتوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ انہی اختلافات کی بدولت سلطنت عثمانیہ ٹکڑوں میں بٹ گئی، یورپ سے مسلمان دھکے دیکر نکالے گئے جہاں ان کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوتا تھا وہاںآج مسلمان بھٹکنے پر مجبور ہیں ان کا مسلسل استحصال کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت ستر برسوں سے بربریت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کوئی اسے روکنے والا نہیںبلکہ بی جے پی کے دوبارہ بر سر اقتدار میں آنے کے بعد تو مظلوم وادی میں امن و امان کی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں اب کشمیریوں پر ظلم کا نیا دور شروع ہو گیا ہے ۔صرف ایک ماہ میں بھارتی درندہ صفت افواج نے بیس سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا اور نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے کشمیری خواتین کی توہین کی اور نوجوانوں کو انکے گھروں سے اٹھا لیا گیا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بدنام زمانہ دہلی کی تہاڑ جیل،بھارتی ریاستوں میں قائم اذیت خانے اورسرزمین جموں و کشمیر پر موجودبھارتی عقوبت خانوں میں لاتعدادکشمیری نوجوان مقیدہیںکہ جن کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک روارکھا جارہا ہے۔ان اوچھے ہتھکنڈوںکاواحد مقصد نفسیاتی طور پر اسیران کشمیرکوہراساں کیاجاناہے تاکہ وہ ہمت ہاربیٹھیں اورکشمیرپرجابرانہ تسلط کوبسروچشم قبول کرنے پرآمادہ ہوجائیں۔سری نگرہائی کورٹ بارکے صدر میاں عبدا لقیوم ،حقوق البشرکی مقامی تنظیم اور (APDP)کے صدر پرویز امروز کے دفاترمیں فائلیں اٹی پڑی ہیں کہ جن میں درج ہے کہ کشمیرکے کتنے نوجوان بے جرمی کی پاداش میں مختلف عقوبت خانوں میںمسلسل پڑے ہوئے ہیں اورانکی رہائی کی طرف کوئی التفات ہی نہیں۔ وادی کشمیرسے سینکڑوں میل دور جموں کی جیلوں،دہلی کی تہاڑ جیل اوربھارت کی مختلف ریاستوں میں قائم ٹارچر سیلوں میں رکھے گئے کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادہے۔ ایسے بھی ہیںکہ جن کے تمام فرضی کیسوں کی ضمانت ہوچکی ہے، البتہ انہیں پھر بھی رہا نہیں کیا جارہا ہے اور انہیں نظربندی کے نام پر حبسِ بے جا میں رکھا گیا ہے۔ جن قیدیوں کے کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، انہیں اکثر اوقات تاریخ پیشی پر حاضر نہیں کیا جاتا ہے اور اس طرح سے ان کی غیر قانونی نظربندی کو طول دیا جارہا ہے۔ بھارتی جیلوں میں ایسے کشمیری بزرگ بھی بلاجرم مقید ہیں، جن کی عمر 60سے 70سال ہے اور وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے اکثر بیمار رہتے ہیں۔ قیدی بنائے جانے والوں میں ایسے بھی ہیں کہ جن کی عمریں ابھی 25برس سے زائد نہیں۔بلالحاظ عمروجنس ان تمام کشمیری قیدیوں کو حراست کے دوران انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں ہر ممکن طریقے سے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کو جو غذائیں فراہم کی جاتی ہیں، وہ غیر معیاری ہوتی ہیں۔ بیمار قیدیوں کے علاج ومعالجے کے لیے بھی کوئی مناسب انتظام دستیاب نہیں ہے اور معیاری ادویات بھی میسر نہیں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کشمیرکی صنف نازک پر بھی کوئی رحم نہیں کھایاجاتا۔دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی اورانکی ساتھی خواتین بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں اورانکی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔واضح رہے کہ جولائی 2018کو دختران ملت کی سربراہ محترمہ آسیہ اندرابی کو اپنی تنظیمی رفقا ء کے ہمراہ بھارتی ایجنسی( NIA)نے ایک فرضی اورجھوٹے کیس میں گرفتارکیاجبکہ اس سے قبل بھی انہیں گرفتار کیاگیاتھااورمئی 2018میںانہیں رہائی مل گئی تھی۔ بھارتی جیلوں میں پابندسلاسل اورپابہ زنجیرکشمیری قیدیوںکیساتھ روارکھے جانے والے انسانیت سوزسلوک جہاں بھارتی استبدادی چہرے کوبے نقاب کرتاہے،وہیںبھارت کی جیلوں میں بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جارہے جابرانہ ،ظالمانہ اورپرتشدانہ سلوک دنیامیں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
وقت کی صدا ہے۔۔۔۔ کشمیر جل رہا ہے!
