Input your search keywords and press Enter.

مسلم دنیاکاجذبہ قربانی لیکن مغلوب کیوں؟ حصہ۲

سوال یہ ہے کہ اپنے رب کے حکم کے سامنے اس قدر تسلیم ورضابننے والی امت مسلمہ کوآخرکیاہوگیاکہ وہ مغلوب بنادی گئی اورآج جب امہ مسلمہ عید الاضحی منارہی ہے کہ بھارت اور اسرائیل مسلسل اورلگاتار کشمیری اورفلسطینی مسلمانوں ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیںاوران کاخون بے دریغ بہایاجارہاہے۔ افواج ہنود کشمیرمیں اورصیہونی فوجیں فلسطین میں مسلمانوں کوذبح کررہی ہیں جبکہ ہندوستان میں پہلے ہی کی طرح آج بھی مسلمان بدستورزیرعتاب ہیں ۔دونوں خطوں میں مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے اورمسلما ن ممالک پرمسلط حکمران اس سلسلے میں خاموش بنے ہوئے ہیں۔محض اغیارکی خوشنودی بجالانے کے لئے مسلمان ممالک کے یہ حکمران خاموش بیٹھے ہیں ۔ افسوس صدافسوس!وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے خیر امت بنایا گیاجسے مالی وجانی طورپر قربانی کاحکم دیاگیاہے،اس امت کو فریضہ شہادتِ حق کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ۔مگرآج مغلوب المغلوب بنی ہوئی ہے ۔

شکوہ مومنین توبڑی چیزہے ،پوری امہ آہ !شکوہ مومنین کیاشکوہ ملک سے بھی محروم ہے۔شکوہ ملک جس چیزکانام ہے وہ ہرقسم کے خارجی وداخلی اثرات سے آزاد اورپاک ملکی پالیسی ہے ۔داخلی اطمینان اور سرحدوں کی قوت وشوکت ہے ،دوسرے ممالک میں عزت ومنزلت کامقام ہے ،قوموں کی برادری میں سربلندی ہے،افرادِ قوم کااطمینان معاشی ومعاشرتی خوشحالی ہے لیکن خوردبین لگا کربھی آپ کویہ اوصاف کسی مسلمان ممالک میں نہیں ملتے بلکہ مسلمان مملکتیں اپنے اندرکئی گروہوں میں بٹ کرایک دوسرے کے خلاف ’’سردجنگ اورپراکسی وار‘‘لڑرہے ہیں اوراپنے ہی کلمہ خوانوں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں اوراغیاراس بات پرخوش ہیں کہ ہزاروں میل دوربیٹھ کروہ ان پرحکومت کررہے ہیں۔اگردنیاوی دولت سے اللہ نے کچھ اسلامی ممالک کومالامال فرمایاہے توان کی دولت سے فائدہ بھی اغیار اٹھا رہے ہیں، ان مسلمانوں کے خزائن اغیارکے تصرف میں ہیں اوراسی سرمائے سے مسلمان ممالک کواسلحہ تیارکرکے فروخت محض اس لئے کیاجاتاہے کہ اس کاتجربہ بھی تم دوسرے مسلمان ممالک کی آبادی پرکرو۔پھرشکوہ دیں یہ ہے کہ اللہ جس کے حاکم ہونے کااقرارہم سب کرتے ہیں (ان الحکم للہ) جس کامطلب یہ ہوتاہے کہ اسی کاحکم اورقانون چلے اورجس کوآقامانا ہے اس سے انحراف کھلی بغاوت ہے ۔جب شکوہ مومنین ہواورنہ شکوہ ملک ہونہ شکوہ دین توپھرآزادبندہ مومن کہاں ملے گا اوریہی وجہ ہے کہ عیدکادن ہجوم ِ مومنین کے سواکچھ نہیں۔

یہ امرواضح ہے کہ کسی بھی مسلمان ملک کی حقیقی عید تب ہوتی ہے جب ان کا ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے مسلم ممالک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب چاردانگ عالم مسلمان کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، خدا مختاری کادوردورہ ہوگا ، دین سر بلند ہوگا، اور کرہ ارض پرہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟بہرکیف! اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الااللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد کا نعرہ بلندکرتے ہوئے مسلمان عیدگاہوں کارخ کرتے ہیں اوراس طرح اسلام عظیم الشان نیکیوں اور انقلاب آفرین خوبیوں کی بنیاد پر یوم عید کاڈسپلن اورکوڈآف کنڈیکٹ مقرر کرتا ہے،یعنی عید ہر فرد مسلم کی اپنی عیداپنی مرضی اوراپنی من چاہی نہیں ہوتی کہ جیسے چاہے منائے اور جو چاہے کر گزرے، کسی کو کسی کے ساتھ کوئی سروکار نہ ہو۔ جو انسانیت کے لیے ہمہ گیر، ہمہ جہت اور ہمہ وقت ہوں ، جن کا تعلق کسی خاص قوم، نسب و حسب یا علاقے سے نہ ہو بلکہ اس کا تعلق نوع انسانی سے ہو اور عالم گیر ہو۔پھریہ کہ اسلام کی عید محض کھیل تماشا، شور شرابا اور ہنگامہٓ ہا ہو کا نام نہیں، یا فقط خوش لباسی اور خوش خوراکی سے عبارت نہیں،بلکہ یہ خدائے قدیر کی اجتماعی عبادت سے لے کر اخوت و مدت، ہمدردی اور محبت، خیرات اور فیاضی، پاکیزگی اور طہارت اور تنظیم و اتحاد جیسی اعلی صفات کا مظہر ہے۔بلکہ یہاں تو ابنائے وطن کو عید میں شریک کرنے کا حکم ہے، اور وہ جو مالی مجبوریوں اور معاشی دشواریوں کے سبب ان مسرتوں سے بہرہ ور نہیں ہوسکتے تو دوسرے مسلمانوں کے فرائض میں ہے کہ وہ ان سے مالی تعاون کریں اور عید سے پہلے پہلے انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔

غرض عید اسلام کی عظمت، شوکت اور شاندار روایت کا امین ہے۔ اگر ہم عید کے ان عظیم دینی و اجتماعات کو کارآمد، مفید اور کثیر المقاصد بنانے کی تدابیر اختیار کریں تو ان اجتماعات سے دینی اور دنیاوی افادیت میں بہت اضافہ ہوسکتا ہے۔یہ احیائے دین اور اقامتِ دین کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوسکتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم ان اجتماعات سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھارہے۔ یہ اجتماعات محض ہجوم مومنین ہوکر رہ گئے ہیں اور انہیں شکوہِ ملک و دین کا وہ مرتبہ حاصل نہیں جو آزاد قوموں کا شعار ہوتا ہے۔

ہاں البتہ مظلومیت میں بھی اگرعید کی خوشیوں کاحصول چاہتے ہیں تویہ بہترین موقع ہے کہ وہ ہزاروں خاندان جواس وقت غربت اورفاقہ کشی کی حالت میں کسی سے بھی اپنایہ دکھ بیان نہیں کرسکتے اورغیرانسانی حقوق کی پابندیوں کے وجہ سے دوسرے ملک کے افرادبھی ان تک امدادپہنچانے سیقاصرہیں،آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔جلدی کیجئے کہیں دیرنہ ہوجائے۔

عبدالرافع رسول

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے