Input your search keywords and press Enter.

یوم آزادی پاکستان اور کشمیری عوام

یہ حقیقت ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم کی مخلص قیادت میسر نہ ہوتی تو ان کیلئے الگ اسلامی ریاست کی نہ کبھی سوچ پیدا ہوتی نہ اس کا حصول ممکن ہوتا۔ شروع میں تو قائد اعظم انگریزوں اور ہندوئوں کے شکنجے میں جکڑی قوم کی حالت زار دیکھ کر مایوس ہو کر لندن چلے گئے تھے۔ علامہ اقبال نے ہی آپ کو خط لکھ کر واپس آنے اور مسلمانوں کی قیادت کرنے کیلئے قائل کیا۔ قائد اعظم نے واپسی پر علامہ اقبال کے تصور سے انگریزوں اور متعصب ہندوئوں سے نجات حاصل کرنے کا آغاز کیا ۔ 23 مارچ 1940؁ء کو منظور ہونے والی قرار داد کو 7سال کے مختصر عرصہ میں اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعہ 14 اگست 1947؁ء کو مملکت خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ بانیان پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی بے لوث جدوجہد کے نتیجے میں اسلامیان برصغیر کیلئے الگ وطن کا خواب حقیقت بنا دیا مگر بد قسمتی ان کی جانشینی کے دعویدار مسلم لیگی قائدین سے نہ سنبھالا جا سکا نہ قوم کو واضع منزل دے سکے جن حکمرانوں کو اس قوم اور ملک کی ترقی کی ضمانت بننا چاہیے تھا ان کی نالائقیوں کی وجہ سے نہ ملک کی حالت بہتر ہوئی نہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں کوئی نظریاتی کام ہو سکا نہ وہ مقاصد پورے ہوئے جن کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کے الگ خطے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی جبکہ مسلم لیگ کی صفوں میں مفاد پرست لوگ شامل ہو گئے جنہوں نے ہمیشہ اس کو استعمال کیا جن لوگوں کی غلطیوں سے ملک دو لخت ہو اور باقی ماندہ ملک اور عوام بھی کس عذاب میں مبتلا ہیں۔ کشمیر ی مسلمان بھی تحریک پاکستان کے دوران شانہ بشانہ رہے اور اس کیلئے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیاں دیں ہیں۔ اپنے ہر عمل سے ثابت کیا ہے کہ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ قیام پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کشمیری طلبہ بھی پیش پیش رہے ۔ انکی خدمات کے اعتراف میں قائد اعظم نے سبز ہلالی پرچم بطور اعزاز عطا کیا ہے ۔ اور کشمیر کے فرزند جس کا نام H.K. خورشید تھا ان کی ذہانت اور جذبہ حب الوطنی سے متاثر ہو کر انہیں اپنا پرائیویٹ سیکرٹری بنا لیا۔ کے ایچ خورشید کا قائد اعظم کا پرائیویٹ سیکرٹری بننا کشمیریوں کیلئے بڑے اعزاز کی بات تھی اور کشمیریوں کی پاکستان سے کمٹمنٹ کا اعتراف تھا۔ کشمیریوں کی پاکستان سے عقیدت کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جب قیام پاکستان سے پہلے 19جولائی 1947؁ء کو آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے غازی ملت سردار محمد ابراہیم کے گھر سرینگر میں پاکستان سے الحاق کی پاس ہونے والی متفقہ قرار داد ہے۔ کشمیریوں نے پاکستان سے معرض وجود آنے سے پہلے اپنا مقدر پاکستان سے وابستہ کر دیا۔ یہ بے انتہاء محبت کا اظہار تھا۔ جہاں تک قربانیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی کشمیری مسلمان اپنے پاکستانی بھائیوں سے پیچھے نہیں رہے جن علاقوں میں ہندوئوں کی اکثریت تھی جہاں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا اور انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا جموں اور اسکے گردونواح کے مختلف علاقے جن میں راجوری، ریاستی، ادھم پور، کھٹوعہ، اکھنور، یہ وہ بدقسمت علاقے تھے جہاں مسلمانوں کا قتل عام کانگریسی رہنمائوں کی سرپرستی میں ہوا اس میں ڈوگرہ سپاہیوں، راشٹر یہ سیوک سنگھ اور دیگر ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کو بھون کر رکھ دیا ان علاقوں میں چار لاکھ مسلمانوں کو بلا وجہ قتل کر دیا گیا۔ یہ سب لوگ پاکستان کی محبت میں شہید ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد قیام پاکستان کی جدوجہد تھی اور کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد تکمیل پاکستان کی جدوجہد ہے۔ 73 سال گزرنے کے بعد آج بھی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کی سنگین صورتحال اور بھارتی رویے کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ بھارت یہ سمجھتا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اب کبھی نہیں اٹھے گا۔ مودی نے عمران خان کی حکومت کے پہلے ہی سال 5 اگست 2019؁ء کا جو اقدام اٹھایا اس کا مقصد کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا اور پھر جبر و ظلم دبانے کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کیا گیا جس سے کشمیریوں کو دبایا یا سلایا نہیں جا سکتا لیکن پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکمت عملی بہتر کارکردگی اور سفارتکاری سے نریندر مودی کے فاشسٹ نظریے اور غیر انسانی لاک ڈائون کے خلاف پاکستان کی پوری قوم کو متحرک کر دیا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں الیکٹرانک پرنٹ میڈیا ، سوشل میڈیا پر مودی کے طرز حکومت پر RSS کا بھیانک چہرہ نمایاں کیا ۔ اب بھی کچھ لوگ پاکستان میں مولانا کچھ لوگ انتشار پیدا کر کے اپنی کرپشن بچانے کے چکر میں نریندر مودی اور اس کے 5 اگست 2019؁ء کے اقدام کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر پارلیمنٹ کے اجلاس میں 5 اگست کو ایک بار پھر بھارت اور پوری دنیا پر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بھارت کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چلا جا سکتا۔ انہوں نے حریت بزرگ رہنما سید علی گیلانی کو نشان پاکستان، دینے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر پاکستان نے نیا نقشہ بھی تکمیل پاکستان تحریک آزادی کشمیر کا جاری کیا ہے جو کہ ایشیاء کی سیاست میں اہم پیش رفت ہے۔ جس سے اس خطے کے ممالک اور پاکستان کے درمیان رشتہ مضبوط ہو گا اور بھارت تنہائی کا شکارہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے