مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم کے دفتر پر یوم آزادی پاکستان کے نام سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوے حجت الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر خلیجی ممالک کی کشمیر اور ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر خاموشی بلکہ انڈیا کی حمایت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے. اور پاکستانی میڈیا میں بھی وزریر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے بعد اسے جگہ ملی ہے۔۔۔
آپ جانتے ہیں کہ جب پی ٹی ائی کی حکومت جب آئی تو وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم پر جاکر کشمیر کے حوالے سے پہلی مرتبہ ایک جاندار تقریر کی وہ جب واپس تو آیا تو اس کی کوشش تھی کہ مسئلہ کشمیر کو مسلم امہ کے اندر اٹھایا جائے تو فورا سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ پہنچ جاتے ہیں۔ اور دونوں جاکریہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو امت کا قضیہ نہ بنایا جائے اور پاکستان پر پریشر ڈالتے ہیں ۔ اور یہ ہندوستانی موقف کی واضح مدد تھی .
پاکستان جو اس وقت شدید ترین اقتصادی بحران کا شکار تھا ہمت نہیں تھی کہ اس کو اٹھایا جائے۔
لیکن جو چیز آپ دل کے اندر پائی جائے مجبوریاں اس کو ختم نہیں کرسکتی۔۔۔
منصفانہ نگاہ سے بات کی جائے تو اس خطاب سے پہلے ہی خلیجی ممالک کا رجحان کئی سالوں سے انڈیا کی طرف تھا. سعودی عرب ، امارات کے مفادات بھارت سے منسلک پو چکے تھے. وہ 2005 سے اپنی اولویت کچھ اور طے کرچکے تھے جو پاکستان کے حکمران ہو یا یا پاکستان کا میڈیا ہو یا پاکستان کےسعودی نواز سیاستدان ہوں، وہ اس کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں تھے۔۔۔ آج انڈیا امریکہ ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کا اتحادی اور پاکستان سے زیادہ انکے قریب جا چکا ہے.

