آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے یوم آزادی کی تقریبات سے خطاب کے دوران کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، دشمن کیخلاف جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہو گی، کشمیریوں کی منزل الحاق پاکستان ہے‘‘۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی الحاق پاکستان کیلئے طویل ترین جدوجہد میں کوئی شک و شبہ ہے نہ آزادی کیلئے دی جانیوالی ان کی قربانیوں کے خلوص میں کوئی شک و شبہ کا عنصر ہے۔ انہوں نے ہر لمحہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا نعرہ ہی بلند کیا ہے۔ پاکستان کا یوم آزادی انہوں نے بھرپور جوش و جذبے سے منایا پوری مقبوضہ وادی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔جبکہ بھارتی یوم آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام نے یوم سیاہ کے طور پر منایا، بھارتی تقریبات کا بائیکاٹ کیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہونے کو ہے۔ بھارتی مظالم کی گرتی ہوئی دیوار کو بس ایک دھکا دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی امداد ہر سطح اور ہر فورم پر جاری رکھے ہوئے ہے تاہم عالمی طاقتوں، بین الاقوامی تنظیموں اقوام متحدہ و سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی اداروںکو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر آنکھیں بند نہیں رکھنی چاہئیں بلکہ کشمیریوں کو آزادی دلانے کیلئے استصواب رائے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے تا کہ مقبوضہ کشمیر کے باعث داؤ پر لگا جنوبی ایشیاء کا امن بھی خطرات و خدشات کے حصار سے نکل کر امن ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلایا جائے۔
آزادیٔ کشمیر کیلئے جدوجہد مزید تیز کرنے کی ضرورت
