جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس دورے کا مقصد اس سفارتی تناؤ میں کمی لانے کی کوشش ہے جو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک بیان کے بعد پیدا ہوا۔
اگست 2019ء میں بھارت نے اپنے زیر انتظام جموں وکشمیر کو ملک میں ضم کر لیا تھا جس کے بعد سے پاکستان، اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑی تنظیم تصور کی جانے والی 57 اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے وزرائے خارجہ اجلاس بلانے پر زور دیتا آ رہا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں غیر معمولی طور پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کی زیر قیادت او آئی سی سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے بارے میں وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلے میں پس و پیش سے کام لینا بند کرے۔
