Input your search keywords and press Enter.

مسئلہ کشمیر … ٹھوس فیصلے کرنا ہوں گے

پچھلے سال اگست میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے معاملہ پر تمام دوطرفہ اور بین الاقوای معاہدے توڑتے ہوئے اور غیر قانونی، غیراخلاقی اقدامات کئے۔ بھارت نے جموں کشمیر میں فوج کی مدد سے حملہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ سے زائدمعصوم شہریوں کو اپنے گھروں میں بندکر رکھا ہے دنیا کے ممالک اچھی طرح جانتے ہوئےبھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی وجہ سے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہو چکی ہے بھارت جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے وہ انسانیت اور انسانی اقدار کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ بھارت دیدہ دلیری سے مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور اقوام متحدہ خاموش تماشا دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ میں 73 سال سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں کشمیر کی سرزمین جس کو جنت نظری کہتے ہیں آزادی کی جنگ میں وہاں کے دریاؤں کا پانی ان کے خون سے سرخ ہو چکا ہے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آج بھی جب کشمیری مسلمان شہید ہوتا ہے تواس کی خواہش کے مطابق اس کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر فن کیا جا تا ہے ۔کشمیری کی آزادی کے لئے تین جنگیں ہوئی اور ہزاروں لوگ شہید ہوئے مگر کشمیر کی آزادی حاصل نہیں کی جاسکی ، اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے لئے آئینی دفعہ 370 اور 335 کو ختم کرکے اس علاقہ کو بھارتی علاقہ قرار دے دیا اور عوای شدید احتجاج کے باوجو کشمیری عوام کو گھروں میں قید کرتے ہوئے کرفیو لگا دیااور ہمارا رول ماسوائے میڈیا اور سفارت کاروں کو اپنے دفتر خارجہ میں ملی تک محدود رہا۔ بلاشبہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں جنگوں سے نقصان ہوتا ہے لیکن اگر جنگ مسلط کر دی جائے تو جنگ ہی آپشن بھی ہوتا ہے۔ کشمیر پالیسی کی پرانی روش میں تبدیلی لانا ہوگی اور ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ہمارے حکمران بار بار اقوام متحد ہ تک جانے کا تاثر دیتے ہیں حالانکہ اقوام متحدہ میں کمزور ملک کی کوئی نہیں سنتاصرف طاقتور ملکوں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کےاصل فریق کشمیری ہیں ان پر اعتماد کریں ، کوئی کشمیری کبھی بھی پاکستان سے بے وفائی یا غداری کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کشمیری قیادت یا تو جیلوں میں ہے یا سخت کرفیو اور فوجی محاصرے کی وجہ سے پابند سلاسل ہیں۔ اب اقوام متحدہ یا بڑی طاقتوں سے امید رکھنا کہ وہ مسئلہ کشمیرل کروائیں گے سود مند نہیں ہے اب پاکستان کے حکمرانوں کو جرأت مندانہ اور کڑوے فیصلے کرنے چا ہئے کشمیری جماعتوںمل کر ایک اجلاس بلانا چا ہئےاور کشمیر کی آزادی کی منزل کو حاصل کرنے کے لئے متفق رائے سے ٹھوس اقدامات کرنے چا ہئیں۔

تحریر:محمدسعیدمغل۔۔۔برمنگھم

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے