Input your search keywords and press Enter.

نیا نقشہ‘  مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار

 مقبوضہ وادی کشمیر میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ کشمیر میں امن نہیں، ریاست میں تباہی، بربادی اور قتل وغارت گری کا ذمہ دار بھارت ہے جو کہ کشمیریوں کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے ظلم و جبر کا سلسلہ جا ری رکھے ہوئے ہے۔آزادی رائے سب کا حق ہے اس سے محروم کرنا انسانی حقوق کے منافی ہے لیکن مقبوضہ کشمیرمیں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانا بھارت کا مشغلہ بن چکا ہے۔ بھارتی ا فواج نے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کررکھاہے جہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی بند کر کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ ریاستی آئین و قانون معطل اور انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے،جتنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جارہی ہیںشاید اتنے بدترین واقعات قبل از تاریخ بھی رونما نہیں ہوئے ہونگے۔امریکہ اور اقوام متحدہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی بحالی کانعرہ بلند کئے ہوئے ہیں لیکن کشمیر کی خون آلود جھیلیں ، جلتے چنار ، بلکتے بچے، چیختی عورتیں، گمنام قبریں، سنسان بازار، نعشوں سے بھری گلیاں اور ویران بازا ر انسانی حقوق کے علمبرداروں کا منہ چڑارہے ہیں،یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں کشمیر میں ہونیوالے مظالم میں برابرکے شریک ہیں۔کشمیری عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے ، بچے، بوڑھے اور جوان اب بھارتی فوجیوں کے سامنے سینہ تان کر باغیانہ لب و لہجے میں گفتگو کررہے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مارشل لاء سے بھی بدتر صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ریاستی آئین و قانون معطل اور انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے،جتنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جارہی ہیںشاید اتنے بدترین واقعات قبل از تاریخ بھی رونما نہیں ہوئے ہونگے۔ پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں افراد کی بینائی ختم کی جا رہی ہے ،تعلیمی اداروں کی عمارتیں تباہ کرکے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، درندہ صفت بھارتی فوج کشمیر میں خواتین کی آبرو ریزی میں مصروف ہے۔ مودی سرکار نے نہ صرف مقبوضہ وادی میں گزشتہ ایک سال سے لاک ڈائون جاری رکھ کر کشمیریوں کو انکے گھروں میں محصور اور زندہ درگور کر رکھا ہے بلکہ ایل او سی پر روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ملحقہ شہری آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کرکے عملاً جنگ مسلط کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت پاکستان نے ہر سیاسی اور سفارتی محاذپر کشمیریوں کے حق خودارادی کا ساتھ دینے کا تہیہ کیا ہوا ہے اب جو پاکستانی اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نیا نقشہ جاری کیا گیا ہے اس سے جہاںمسئلہ کشمیر کے فوری حل کی راہ ہموار ہوئی ہے وہیںسفارتی طور پریہ ایک اچھا اور کامیاب قدم ہے کیونکہ بھارتی ظلم و ستم کیخلاف کشمیریوں کی آواز تمام دنیا کے دارالحکومتوں میں گونج رہی ہے ۔ نئے نقشے میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر، آزاد کشمیر، گلگت و بلتستان، سرکریک، جونا گڑھ اور مناودار کو سرکاری طور پر پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے اور اب یہ نقشہ تمام اداروں اور کالجوں، سکولوں میں بھی استعمال ہوگا۔ پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ ظاہر کرنے کے ساتھ اس بات کی توضیع بھی کردی گئی ہے کہ اس متنازع علاقے کے بارے میں آخری فیصلہ کشمیری عوام ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کریں گے۔ 14 اگست یوم آزادی پر کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازانا خوش آئند ہے ۔ اس سے یقینا کشمیریوں کو اپنی جدو جہد آزادی میں نئی جہت ، نئی امنگ اور نیا حوصلہ ملا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرقیادت حکومت پاکستان، پوری قوم،سیاسی اور عسکری قیادتوں نے آج جس طرح یکسو اور یکجہت ہو کر کشمیریوں کی آواز کے ساتھ آواز ملاتے ہوئے بھارتی توسیع پسندانہ عزائم دنیا بھر میں بے نقاب کئے ہیں اس سے یقیناً عالمی ضمیربیدارہو چکا ہے اور’’ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ‘‘چار دانگ عالم میں گونجتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کی منزل بھی قریب لے آئے گا،یہاں ضرورت اس امر کی بھی ہے عالمی قیادتیںمصلحتوں کے لبادے کو اتار کر کشمیری عوام کو ظالم بھارت سے استصواب کا حق دلانے کیلئے مئو ثر اور ہنگامی بنیادوں پر کردار ادا کریں ورنہ بھارتی جنونیت علاقائی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کو بھی نیست و نابود کردے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے