لوٹن (شہزاد علی) کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جائے ،یہ مطالبہ کشمیر فریڈم موومنٹ برطانیہ کے زوم اجلاس میں کیا گیا، اجلاس سے کشمیر فریڈم موومنٹ کے سابق مرکزی سینئر نائب صدر حاجی محمد یاسین، سابق صدر برطانیہ چوہدری غلام حسین، برطانیہ کے صدر محمد ظفر، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مظہر کیانی، فارن سیکرٹری سردار آفتاب خان، اظہر احمد، تبارک علی اور دیگر نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت دیا جائے، استصواب رائے کا وعدہ دونوں ممالک بھارت اور پاکستان کی قیادت نے اقوام متحدہ میں کیا تھا، یہ حق کشمیری عوام کو دیا جائے تاکہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کے اسٹیٹس کا آزادانہ طور پر فیصلہ کر سکیں، رہنمائوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے، کشمیری اپنی ریاست کے حصے بخرے کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دیں گے، کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دلانے کے حوالےسے برطانیہ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ نے کشمیر کے مسئلے کو حل طلب رہنے دیا تھا اب اس کا فرض ہے کہ وہ اس دیرینہ قضیہ کے حل کیلئے اپنا عالمی کردار ادا کرے جب کہ کشمیری ڈائسفرا کو برطانیہ کے اندر اپنا کردار مضبوط اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ سال سے جب سے بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈائون کرکے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے ہیں، اس تناظر میں برطانوی کشمیری کمیونٹی کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، ہمیں چاہئے کہ یہاں پر مزید متحرک ہوکر کورونا وائرس سے متعلق قواعد کی پابندی کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے زریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مشترکہ مطالبہ کو اجاگر کریں اور مقبوضہ کشمیر کے اندر کشمیری باشندوں کے حقوق انسانی کی پامالی کے واقعات کو اٹھائیں۔ شرکاء نے اس حوالے کے ایف ایم کی حالیہ کاوشوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے حالات پر مہذب دنیا، انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں اور خاص طور پر مسلم امہ کے دعویدار ممالک کے سربراہان کی بے حسی کو بھی نوٹ کیا گیا۔
کشمیر کے حصے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، رہنما کے ایف ایم
