مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے مودی سرکار نے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ برس اگست میں مودی حکومت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر کشمیریوں کو آئین میں حاصل خصوصی تحفظ اور اختیار سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر کے وادی کو وفاق کے ماتحت دو حصوں لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر دیا تھا۔
آرٹیکل 35 اے کی منسوخی سے بھارت کے کسی بھی حصے میں مقیم شخص کو کشمیر میں سکونت اختیار کرنے، ڈومیسائل بنانے اور کاروبار کرنے کی اجازت مل گئی ہے اور گذشتہ برس سے تاحال 4 لاکھ 23 ہزار ڈومیسائل جاری کیے گئے ہیں جو کہ ایک سال میں جاری ہونے والے ڈومیسائل کا ریکارڈ نمبر ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ڈومیسائل کن کو جاری کیے گئے ہیں تاہم قوی امکان ہے کہ ان میں زیادہ تر غیر کشمیری شامل ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمان آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے جیسا کہ اسرائیل نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری سے کیا تھا۔
واضح رہے کہ آرٹیکل 35 اے 1927ء میں منظور ہوا تھا جس کے بعد سے بھارتی ریاستوں کا کوئی بھی شہری کشمیر میں جا کر نہ تو مستقل رہائش حاصل کر سکتا تھا اور نہ ہی ڈومیسائل بنوا سکتا تھا تاہم گذشتہ برس 5 اگست کو اس آرٹیکل کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
