Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کے وسائل پر قابض بھارت  

   کشمیری برسوں سے اپنے بنیادی حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں سرکار نے گجرات سے لے کر کشمیر اور پورے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کشمیر کے موجودہ حالات ایک ایسا المیہ ہیں جسے دنیا نظر انداز کر رہی ہے قیام پاکستان کے ساتھ ہی کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کی جدوجہد شروع کر دی تھی کشمیری 72 برسوں سے بھارت کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں سرد خانے میں پڑے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مودی سرکار کا کردار انتہائی اہم ہے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کوکیئے گئے اقدامات نے عالمی برادری کو وادی کے درست حقائق سے باخبر کیا بھارت کے برسوں سے جاری عیارانہ حربوں کے تناظر میں مقبوضہ وادی کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے واضح ہوئی ہے کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے سال کے 365 دن اہل کشمیر کے لیے ایام سیاہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ جب کشمیری عوام کو آزادی مانگنے کی پاداش میں سزا نہ بھگتنی پڑے پانچ اگست کو مودی حکومت نے اپنی انتخابی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور اس کی شکل اے کو ختم کر دیا مودی سرکار کے اس اقدام کا پاکستان اور دنیا بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تاہم بھارت ٹس سے مس نہ ہوا غور طلب امر یہ ہے کہ احتجاجی ردعمل مذمتوں تک محدود رہا جس سے بھارت کو مزید شے ملی اندرونی خلفشار کا شکار بھارت مقبوضہ وادی میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اقدامات بروئے کار لانے کی کوششوں سے باز نہ آیا بھارت کا اصل مقصد مقبوضہ وادی میں ہندو بستیاں آباد کرنا ہے مودی سرکار کا بالادستی کا خواب کشمیر کے حوالے سے کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا  تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرونا وائرس کا جواز بنا کر 30 ستمبر تک توسیع کردی گئی ہے مقصد مودی سرکار کا ڈھٹائی کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ بھارت 12 لاکھ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کرچکا ہے مقبوضہ وادی میں بھارت کے جارحانہ عزائم تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے مقبوضہ وادی میں اہل کشمیر انصاف کے لیے برسرپیکار ہیں  امن و انسانیت کے ناطے مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام اور ہندو قوم پرستی کے خلاف آواز بلند کی جائے بھارتی حکومت کی کشمیر دشمنی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے کشمیر کے معاملات میں بھارت کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور بروئے کار لائے گئے اقدامات سے یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ کشمیر بھارت کا حصہ کہلائے بھارتی کابینہ نے حال ہی میں ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مقبوضہ وادی میں پانچ سرکاری زبانیں ہوگی اردو ہندی کشمیری ڈوگری اور انگریزی اس ضمن میں بھارت جو مرضی زبانیں رائج کر لے مقبوضہ وادی کے لوگ صرف اور صرف آزادی کی زبان جانتے ہیں  ہندو بالادستی کا نظریہ ناصرف کشمیریوں بلکہ بھارت میں مسلمانوں عیسائیوں سکھوں پارسیوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے مودی سرکار کے خطرناک منصوبے  خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بھارت کا اصل مقصد کشمیریوں کے وسائل پر مکمل طور پر قابض ہونا ہے بھارتی اقدامات کے تحت پوری کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ہندو مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں یہاں رہائش اختیار کریں اس سلسلے میں ان اقدامات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلم اکثریتی خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں آئیں گی اور مقبوضہ کشمیر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جائے گا آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کا اصل مقصد ہی یہی تھا کہ مقبوضہ وادی میں زیادہ سے زیادہ ہندو آباد ہوسکیںاہم امر یہ ہے کہ ہندو انتہاپسند بھارت میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کو حملہ آور تصور کرتے ہیں حکومت نے عدالت کی آڑ لے کر اس قانون کو ختم کیا بھارت کی بربریت کشمیری عوام کے عزم کو نہیں توڑ سکتی بھارتی فوج محاصرہ اور گھر چھاپوں کے دوران مسلسل نوجوانوں کو شہید کر رہی ہے پاکستان مخالف پروپیگنڈا بھی مودی سرکار کے کچھ کام نہ آیا دراندازی کے بے بنیاد الزامات پر عالمی برادری کو اب کوئی اعتبار نہ رہا کشمیریوں کو حق خودارادیت اقوام متحدہ نے دیا ہے جسے وہ کبھی ترک نہیں کریں گے بھارت طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو غلام بنائے رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مودی سرکار کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی  ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے