5اگست 2019 کو بھارت نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے کشمیر کو اپنے علاقوں میں ضم کرنے کا اعلان کیاجس کی پاکستان نے ہرسطح پر مخالفت کی۔ دنیا میں بھی نئی دلی کے اس عمل کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ گزشتہ دنوں بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ تنازع کشمیر کوسکیورٹی کونسل کے ایجنڈا سے ہٹادیا جائےتاکہ پاکستان اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس میں اس مسئلہ کو نہ اٹھا سکے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل انڈیا کےآرٹیکل 370 اور35 اے کے خاتمے اوراس کے نتیجہ میں جموں و کشمیر کو ضم کرنے کے اقدام کو قبول نہیں کرتا اور جموں و کشمیر کے ایشو کو دونوں ملکوں کے درمیان آج بھی متنازعہ علاقہ سمجھتی ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اطراف میں فوجی مبصرین مقرر ہیں جو کسی بھی طرح کی سرحدی خلاف ورزی کو رپورٹ کرتے ہیں۔
بھارت کافی عرصہ سے مسئلہ کشمیر کو سیکورٹی کونسل کے ایجنڈا سے ہٹانا چاہ رہا ہے۔اس کا نیامؤقف یہ ہے کہ 5 اگست2019 کے اقدام سے یہ معاملہ حل ہو چکااس لیے اسے ایجنڈا سے ہٹا دینا چاہیے۔ لیکن سیکورٹی کونسل اس معاملہ کوصرف بھارت کی آنکھ سے نہیں دیکھ رہا۔جنرل اسمبلی کو پیش کی جانے والی2019 کی سیکورٹی کونسل کی رپورٹ کے پیرا گراف 72 میں اب بھی مسئلہ کشمیر کو دونوں ملکوں کے مابین تنازع کی وجہ قرارد یا ہےیعنی بھارت کا یکطرفہ عمل اس مسئلہ کے حل کے طور پر اقوام متحدہ کو قبول نہیں۔
مسئلہ کشمیر پہلی بار 20جنوری 1948کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اٹھایا گیااور آج تک حل نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہر سال اقوام متحدہ کے ایجنڈاپر ہوتا ہے۔ پاکستان ہر سال اس تنازع کو ایجنڈا پر رکھنے کے لیے باقاعدہ درخواست کرتا ہے اورسکیورٹی کونسل اس پر اب تک متعدد قرار دادیں منظور کر چکا ہے تاہم کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق ان قرار دادوں پر بھارت نے کبھی عملدرآمد نہیں کیا۔ا قوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 1(2) کے تحت کشمیروں کے حق خود ارادیت کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔جون 2018 اور جولائی 2019 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے اس بات کا اعادہ بھی کیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کے اس مطالبہ کو بے تکا قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پرلایا جانے والا کوئی بھی ایشو اس وقت تک نہیں ہٹایا جا سکتا جب تک فریقین کے مابین باہمی رضامندی سے یہ طے نہ ہو جائے۔
1948 میں پاکستان اور انڈیا نے یواین سیکورٹی کونسل کے چارٹر میں آرٹیکل35کے تحت پٹیشن دائر کی تھی۔جس کا بڑا مقصداقوام متحدہ کے زیر نگرانی جموں و کشمیر میں آزادانہ انتخابات کا انعقاد تھا۔کشمیر کیس میں استصواب رائے کے اس نکتہ کو سیکورٹی کونسل کے دو مستقل ارکان چین اور برطانیہ نے مختلف اجلاسوں میں توجہ کا مرکز بنایا۔امریکی موقف بھی اس حوالے سے واضح ہے کہ اگر دونوں ممالک یو این چارٹر کی روشنی میں یہ تنازع حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں توخطہ کے امن کے لئے یہ قابل قبول ہو گا۔تاہم بھارت کی اس کوشش کو بے ضرر اور بے مقصد نہیں سمجھنا چاہیے۔بھارت یکم جنوری 2021 سے دو سال کے لئے سلامتی کونسل کا رکن بننے جا رہا ہے۔بھارت کی زیرک سفارت کاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس نے بڑی ہوشیاری سے یواین سیکورٹی کونسل میں اگلے دو سالوں کے لیے اپنی عارضی رکنیت کے لیے پاکستانی ووٹ محفوظ کیا اور پھر موقع دیکھتے ہی پینترا بدل لیا۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن اور اسلام آباد میں دفتر خارجہ کو اس معاملہ کو باریک بینی سے دیکھنے اور اپنا مقدمہ مضبوط رکھنے کے لیے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
شہزاداقبال،لاہور
