کشمیرکی آزادی کی تحریک جو کئی سالوں سے جاری ہے اوراس تحریک کی آبیاری کشمیری عوام نے اپنے مقدس خون سے کی ہے ۔کشمیریوں کا حق خود ارادیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے لیکن بھارت اپنے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبا رہا ہے ۔ بہت سے لوگ اور تنظیمیں کشمیریوں کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کر نے کیلئے اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں ان تنظیمیوں میں جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کی تحریک آزادی کشمیر کے لئے جدوجہد لائق تحسین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر کے لیے جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل تنظیم نے جتنا کام کیا ہے اور کر رہی ہے قابل تعریف ہے، جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمین راجہ نجابت حسین گزشتہ کئی برس سے برطانیہ اور یورپ کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتھک محنت کرتے رہتے ہیں اگر چہ ان پر تنقید بھی ہوتی ہے مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر اپنا کام جاری رکھتے ہیں، برطانیہ میں اب مختلف تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں بریڈفورڈ میں ہفتہ وار مظاہروں کا آغاز کر دیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی
حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی جاتی ہے اب تو پاکستان کا کوئی بھی قومی دن ہو اس کو بھی کشمیر کی یکجہتی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ کشمیر کے حوالے سے بھی بہت سے دن ہیں جو کہ یکجہتی کے طور پر منائے جاتے ہیں اگر چہ بعض دنوں کی جو تاریخ منسوب کی جاتی ہے وہ مستند نہیں ہوتی کوئی ایک واقعہ جوڑ دیا جاتا اور اس واقعہ کے پس منظر کو توڑ مروڑ کر بیان کیا جاتا ہےاور ہم لکھنے والے بھی اس کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہر پاکستانی اور کشمیری کے دل کشمیر کی آزادی کے لیے دھڑکتے ہیں، کشمیر بنے گا پاکستان یا خود مختار اس کا فیصلہ بالآخر کشمیریوں نے ہی کرنا ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ بریڈفورڈ قونصلیٹ میں چودہ اگست کی تقریب ہو یا یوم دفاع کے موقع پر کیے گئے احتجاجی مظاہرے اس سے دنیا کوکوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔کمیونٹی نے دونوں جانب اختیار کئے گئے اس طرز عمل کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے، دوسری جانب بقول آصف خان بریڈفورڈ قونصلیٹ نے پاکستان کشمیر یونائیٹڈ فورم کو ڈیفنس ریلی کے لیے اجازت دی، دونوں گروپ آمنے سامنے ہوئے کشیدگی کو دور کرنے کے لیے مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی جب ہم خود ایک ہی شہر ایک ہی گاؤں یا ایک ہی گھر کے افراد ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوں گے تو نقصان ہمارا ہی ہو گا اور فائدہ دشمن کو ۔بریڈفورڈ قونصلیٹ کے باہر ہونے والے واقعہ کے مناظر سوشل میڈیا پر لائیو تھے کشمیر بنے گا پاکستان یا کشمیر بنے گا خود مختار دونوں ہی قابل احترام نعرے ہیں ان نعروں کی تکمیل کشمیری کریں گے جن سے اقوام متحدہ نے وعدہ کر رکھ ہے لیکن ان کی شرط یہی ہے کہ دونوں طرف ماحول سازگار ہوں اقوام متحدہ دونوں ممالک کو خطے سے اپنی فوجیں یا مجاہدین کو واپس بلانے کا کہہ چکی ہے تاکہ پرامن ماحول میں رائے شماری ہو جبکہ ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا ۔کشمیری خود ایک دوسرے کے دست وگریبان ہیں ہم کشمیر کی آزادی کے لیے یک نکاتی ایجنڈے پر متحد نہیں ہیں کشمیر کے حوالے سے دونوں ممالک پے در پے غلطیاں کر رہے ہیں آئے روز طرح طرح کے فارمولے سامنے آتے ہیں بیک ڈور ڈپلومیسی کی باتیں ہوئیں۔ بھارت کی ہٹ دھرمی نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت ہی کو بدل دیا۔ ڈومیسائل تبدیل کر کے غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کرنے کی کوشش میں ہے ،سال سے زائد عرصہ سے کشمیری لاک ڈاؤن میں ہیں جس کی آڑ میں بھارت اپنی فورسز کے ذریعے انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کر رہا ہے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور تو اور ہمارے ہمسایہ اسلامی ممالک جن کی دوستی پر ہمیں ناز ہے کشمیر کے معاملے میں ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہیں ۔ پاکستان خود اندرونی طور پر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے حکومت کو آزادانہ فیصلے کرنے کا اختیار نہیں۔ بلاشبہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی وکالت کر رہا ہے ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تحریک آزادی کشمیر کا ضامن ہو سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیری خود متحد ہوں وزیراعظم آزادکشمیر درست کہتے ہیں کہ جب تک کشمیریوں کو خود دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
تحریر :محمد رجاسب مغل
