Input your search keywords and press Enter.

مسئلہ کشمیر اور عالم اسلام کے دو عظیم رہنما

 اس وقت عالم اسلام میں دو رہنما ایسے ہیں جنہیں امت مسلمہ کے صحیح معنوں میں خیر خواہ کہا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک ترکی کے صدر رجب طیب اردوان جبکہ دوسرے ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں نے عالم اسلام کے ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، دنیائے اسلام میں کوئی بھی پریشانی یا تکلیف ہوتی ہے تو یہ دونوں اس کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے ملک اور اپنے مفادات کی پرواہ کیے بغیر انہوں نے کفریہ طاقتوں کی مخالفت بھی مول لے لی لیکن مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے سے انہیں کوئی نہ روک سکا۔ انہوں نے عالم اسلام کو حوصلہ دیا اور ہر مشکل میں اپنی حمایت کا احساس دلایا۔

پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ، مسئلہ کشمیر ہے جسے حل کرنے کے لیے ہماری قوم گزشتہ تہتر سال سے کوشش کر رہی ہے جبکہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں ہے، اپنے وعدوں سے مکر چکا ہے جبکہ کشمیر کے حوالے سے آئے روز نت نئے اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستانی قوم کشمیریوں سے مخلص ہے اور انہیں ظلم و ستم سے نجات دلانا چاہتی ہے لیکن بھارت وہاں ظلم و ستم ڈھا کر انہیں اپنے الحاق پر مجبور کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ کشمیر میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے جو نہایت غیور اور اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والے ہیں، انہوں نے بہت بڑے بڑے ستم برداشت کیے ہیں لیکن بھارت کے ساتھ الحاق پر ذرا برابر آمادگی ظاہر نہیں کی، لہٰذا بھارت نے اب وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے بھونڈی حرکتیں شروع کر دی ہیں اور وہ کشمیریوں کی نسل کشی پر اتر آیا ہے، آئے روز کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں کو شہید کر رہا ہے اور ہندوؤں کو وہاں بسانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کی تعداد کم اور ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہو جائے اور بھی رائے شماری یا کسی اور ذریعے سے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا جائے۔

بھارت کے ان اقدامات کے خلاف پاکستان نے کافی آواز بلند کی، ہر عالمی فورم پر احتجاج کیا، دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ یہاں تک کہ ہمارے دوست اسلامی ممالک نے بھی اس مسئلہ میں ہمارا ساتھ نہ دیا بلکہ اسے عالم اسلام کا مسئلہ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ جب مودی سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کی انہی دنوں چند اسلامی ممالک کے مسلمان حکمرانوں نے مودی کو گلے لگایا اور اسے بڑے بڑے ایوارڈز سے نواز کر عالم اسلام کے بچے کھچے اتحاد و یکجہتی کو بھی بے دردی سے پارہ پارہ کر دیا اور پاکستان کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ مسئلہ کشمیر تمہارا ہے تم جانو اور بھارت ہمیں عالم اسلام کے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں، ہمیں تو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔

ان مشکل حالات میں عالم اسلام کے دو عظیم رہنما پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے اور بغیر کسی مفاد کے بے لوث ہو کر پاکستان کی حمایت کی۔ چند روز قبل مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ بھارت علاقائی بدمعاشی چھوڑ دے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانیت کے لیے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ انہوں نے عالمی برادی کو بیدار کرنے کے لیے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر خاموش رہنا آپشن نہیں ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔ وہ کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کے نتیجے میں ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ ہیں اس کے باوجود انہوں نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی اور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دنیا کی طرف سے رد عمل سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے بولنے کا انتخاب کیا، میرے ذہن میں خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کشمیر میں وہی کچھ کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی سابق ملائیشین وزیر اعظم نے 28ستمبر 2019کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے اس اقدام کی کوئی وجوہات ہوں لیکن یہ تب بھی غلط ہے۔ اس پر بھارت نے ملائیشیا سے پام آئل کی تجارت کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی لیکن ملائیشین وزیر اعظم نے ان دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر علی الاعلان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھی۔

عالم اسلام کے دوسرے رہنما ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے بھی اس مسئلہ پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور کشمیریوں کے حق میں کھل کر آواز بلند کی۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات سے کشمیریوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر ہمارے لیے بھی وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔ پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں دباؤ کے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتاہوں۔ انہوں نے کئی بار اس مسئلہ پر بھارت کو تنبیہ کی اور اسے باز رہنے کے لیے کہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اس مسئلہ کو اٹھایا اور کشمیریوں کی طویل قید اور وادی میں کرفیو کے خلاف آواز بلند کی۔

ان دونوں رہنماؤں نے اس مسئلہ پر پاکستان کا ساتھ دیا اور کھل کر حمایت کی۔ یہ دونوں رہنما عالم اسلام کا عظیم سرمایا ہیں، جن کی اسلامی دنیا کو ضرورت ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ ان کے ساتھ رابطے میں رہے اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر ان دونوں رہنماؤں کی آواز پر لبیک کہے یہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے