نذرحافی
بھارتی آئین کے آرٹیکل 370Aکے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی، اس خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارتی جنتا پارٹی کے منشور کا حصہ تھا ۔ مسٹر مودی نے جبراً 370A اور 35Aکا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ رہنے کا آئینی جواز ہی ختم کر دیا ہے۔ آنے والے حالات کشمیریوں کیلئے نئے امتحانات لے کر آئیں گے۔ اس وقت ضروری ہے کہ کشمیر، پاکستان اور ہندوستان کے عوام حقائق کو انسانی حقوق، تاریخ، بین الاقوامی قوانین اور منطقے کے امن و امان تناظر میں اچھی طرح سمجھیں۔
کسی بھی مسئلے کا حل منطقی بات چیت، سنجیدہ مکالمے اور انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ نکالا جا سکتا ہے۔اس حکمتِ عملی کی مختلف شکلیں اور متعدد زاویے ہو سکتے ہیں۔ ایک درست اور ٹھوس حکمتِ عملی تک پہنچنے کیلئے ہمیں تمام مجوزہ تجاویز کو سامنے رکھ کر ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ایک مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے تمام اطراف و جوانب اور عمل و رد عمل کا تخمینہ لگانا بھی ضروری ہے۔
اہمیتِ تحقیق
کشمیر کو سب پانا چاہتے ہیں، لیکن کشمیر کے پانے کیلئے کس کو کیا کھونا پڑے گا، اب اس پر سنجیدگی سے سوچنے کا وقت آچکاہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بڑی جنگوں میں مسئلہ کشمیر کو اساسی حیثیت حاصل رہی، عموماً اس مسئلے میں چین کا نام ایک خاموش فریق کی حیثیت سے لیاجاتا رہا، لیکن اب وہ خاموش فریق بھی اس ریاست کے ایک بڑے رقبے پر اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے۔
سی پیک کے منصوبےاور ایران و چین اور روس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات نے اس مسئلے کو پھر سے ایک نئی زندگی بخش دی ہے۔ اب علاقائی ریاستوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس مسئلے کو حل کئے بغیر کسی کا بھی مستقبل محفوظ نہیں۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
اب اس سے پہلے کہ دیگر اقوام کشمیر کا حل سوچیں، کشمیریوں کو خود اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی منطقی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق اسی حکمتِ عملی کی طرف ایک قدم ہے۔
جغرافیہ
کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ اس کی سرحدیں پاکستان، بھارت، چین اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔ وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ پاکستانی کشمیر کے علاقے پونچھ، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے شامل ہیں۔
اس وقت خطہ تنازعات کے باعث تین ممالک میں تقسیم ہے جس میں پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر)، بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ) اور چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتا کم اونچے پہاڑوں پر موجود ہے۔
انتظامی ڈھانچہ
اس وقت خطہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر پر بھارت قابض ہے جبکہ پاکستان 85،846 مربع کلومیٹر پر قانونی طور پر انتظامات کو سنبھالے ہوئے ہے اور اور چین 37،555 مربع کلومیٹر پر زبردستی قابض ہے۔
آزاد کشمیر کا 13،350 مربع کلومیٹر (5134 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کا رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے جو گلگت اور بلتستان پر مشتمل ہے۔مجموعی طور پر ریاست کا کل رقبہ84ہزار471مربع میل بتایا جاتا ہے۔
آبادی
مقبوضہ جموں و کشمیر
۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق جموں ڈویژن کی آبادی 5,350,811، کشمیر ڈویژن کی آبادی 6,907,623، اور لداخ ڈویژن کی آبادی 290,492 نفوس پر مشتمل ہے ۔
آزادکشمیر
آزاد کشمیر کی آبادی تقریبا چالیس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہے۔ آزاد کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد ہے ۔ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔گلگت و بلتستان تین ڈویژنز بلتستان ، دیا میراور گلگت پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کی آبادی 81لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔
ادیان و مذاہب
آزاد کشمیر كى 98 فيصد آبادی اور شمالی علاقہ جات کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ بلتستان میں ۸۵ فیصد اثنا عشری شیعہ مسلمان جبکہ گلگت میں شیعہ اثنا عشری ۴۵ فی صد ، ۳۰ فيصد اسماعیلی شیعہ اور اہل سنت ۲۵ فی صد آباد ہیں۔ آزاد کشمیر میں مسلم اکثریت 98% فیصد ہے اور کل مسلمان آبادی کا ۷۰ فیصد سنی ہیں۔بھارت کے زير انتظام کشمیر میں بھارتی ذرائع کے مطابق 70 فیصد آبادی مسلمان ہے (2001ء)۔ بقیہ آبادی بدھ، ہندو،سکھ مرزائی اور دیگرمذاہب پر مشتمل ہے۔
بھارتی وزارتِ داخلہ کے رجسٹرار آف سنسس کی طرف سے 2011ء میں کرائی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق جموں کا خطہ جو انتظامی لحاظ سے ایک ڈویژن ہے، دراصل تین خطوں یعنی جموں (توی ریجن)، پیر پنجال اور وادیٔ چناب میں منقسم ہے۔اوّل الذکر خطہ، یعنی جموں توی ریجن میں مختلف ہندو ذاتوں کی اکثریت ہے، جب کہ دیگر دونوں خطوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔
جموں توی کے پانچ اضلاع ادھم پور، سانبھا، ریاسی، جموں اور کٹھوعہ کی آبادی 23 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس خطے کے بھی ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمانوں کا تناسب تقریباً برابر ہے:جموں اور کشمیر کی مردم شماری 2011ءکْل آبادی: ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302مسلمان 85,67,485 68.31%ہندو 35,66,674 28.43%سکھ 2,34,848 1.87%بودھ 1,12,584 0.89%پیر پنجال اور وادی چناب کے خطے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔ پیرپنجال کا خطہ، راجوری اورپونچھ کے دو اضلاع پر مشتمل ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب 75 فی صد ہے۔اسی طرح ایک اور خطہ ہے وادی چناب، جو دریائے چناب کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ اس خطے کو بھی انتظامی اعتبار سے جموں ڈویژن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اس کے تین اضلاع ہیں: کشتواڑ، رام بن اور ڈوڈہ۔ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں۔ اس خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 60 فی صد ہے۔لداخ خطے کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ یہ بودھ اکثریتی علاقہ ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس خطے میں دو اضلاع لیہ اور کرگل ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے بودھ39.65 فی صد اور مسلمان46 فی صد ہیں۔ اس طرح مردم شماری کے یہ اعداد و شمار لداخ کے بودھ اکثریتی علاقہ ہونے کی تردید کرتے ہیں۔لداخ کے صرف ضلع لیہہ میں بودھ آبادی کا تناسب 66 فی صد ہے، جب کہ مسلمان 14فی صد ہیں۔
اس ضلع کی آبادی لیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یعنی خطے کی مجموعی آبادی میں 2 لاکھ 74 ہزار 2سو 89 میں سے مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار ہے، جب کہ بودھوں کی ایک لاکھ 8ہزار ہے۔وادی کشمیر کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ یہاں مسلم آبادی کا تناسب 96 فی صد ہے۔ریاست کی جملہ آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار سے کچھ زیادہ ہے، جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 86لاکھ ہے، جب کہ ہندوئوں کی35لاکھ سے زیادہ اور سکھوں کی تقریباً ڈھائی لاکھ اور بودھ مت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ زیادہ۔
کشمیر میں اسلام کا داخلہ
ایک سروے کے مطابق کشمیر میں اسلام چودہویں صدی کے شروع میں ترکستان سے صوفی بلبل شاہ قلندر اور ان کے ایک ہزار مریدوں کے ساتھ پہنچے۔ بودھ راجا رنچن نے دینی افکار سے متاثر ہو کر بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یوں راجا رنچن سلطان صدر الدین کے نام سے کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔ بعد ازاں ایک ایرانی صوفی میر سید علی ہمدانی سات سو مبلغوں ‘، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔ انہوں نے ہزاروں ہندوؤں کو اسلام میں داخل کیا۔
دورِ غلامی کا آغاز
کشمیریوں کی تاریخ کا آغاز آزادی سے ہوتا ہے۔آپ شاید یہ جان کر حیران ہونگے کہ کشمیر کی موجودہ غلامی کچھ ملاوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔یہ ۱۵۸۳ کی بات ہے کہ جب یوسف شاہ چک کے دور حکومت میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کی باہمی فرقہ وارانہ جنگ کے نتیجے میں کشمیر کو اکبر بادشاہ کی غلامی قبول کرنی پڑی۔ اس کے بعد کشمیر آج تک غلامی کی زنجیروں میں جھکڑاہوا چلاآرہاہے۔ اکبر وہ پہلا بادشاہ تھا جسے کشمیر کے کچھ غدار صفت مولویوں نے حملے کی دعوت دی تھی اور اُس نے کشمیر کے بادشاہ یوسف شاہ چک کوبطورِ مہمان دعوت دینے کے بعد گرفتار کر لیاتھا۔
پھر۱۷۵۳ میں احمد شاہ ابدالی نے کشمیر کو مغلوں سے چھین لیا اوریوں کشمیری ،مغلوں کے بعد افغانیوں کے غلام بن گئے پھر ۱۸۱۸ میں لاہور کے مہاراجے رنجیت سنگھ نے یہ علاقہ افغانیوں سے چھینااور پھر کشمیری رنجیت سنگھ کے غلام بن گئے۔
۱۸۱۸ء سے ۱۸۴۶ء تک یہاں سکھوں کی حکومت رہی۔9 مارچ 1846ء کو عہد نامہ لاہورکی دفعہ چہارکے تحت جنگی ا خراجات کی مد میں سکھوں نے کشمیر انگریزوں کے حوالے کیا اور ایک ہفتے کے بعد ہی انگریزوں نے کشمیر کی ریاست گلاب سنگھ کو نیلام کردی۔
کشمیر کی غلامی کی ابتدا فرقہ واریت کے باعث ۱۵۸۳ سے ہوئی اور غلامی کی موجودہ داستان ۱۹۴۷ سے رقم ہوتی ہے۔اس پوری غلامی کی تاریخ میں کشمیری مسلسل آزادی کی جدوجہد کرتے رہے جس پر روشنی ڈالنا اس وقت ممکن نہیں۔
راقم الحروف کی معلومات کے مطابق ۱۸۴۶ میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ریاستِ کشمیر معائدہ امرتسر کی رو سے گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کی۔تاریخی اعتبار سے اس وقت شمالی عالاقہ جات کا علاقہ کشمیر کا حصہ نہ تھا بلکہ متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں مثلانگر‘ ہنزہ‘ کھرمنگ‘ خپلو‘ شگر‘ دیامر‘ خذر‘ سکردو‘ استوار اور گانچھے راجواڑے وغیرہ میں منقسم تھا۔۱۸۴۶ میں گلاب سنگھ نے ان چھوٹی موٹی ریاستوں کو طاقت کے زور پر کشمیر میں شامل کیا۔
کشمیر ڈے کی ابتدا
14 اگست 1931 پہلی بار کشمیر ڈے منایا گیا۔اکتوبر 1931 میں علامہ اقبال کی سرپرستی میں مسلمان وفد مہاراجا ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم ہری کرشن کول سے مذاکرات کے لیے ملے. مذاکرات ناکام ہوئے. اس طرح ۱۸۴۶ء کے بعد ۱۹۴۷ء تک کشمیر پر گلاب سنگھ کی نسل اور باقیات ہی حکمران رہی۔
کشمیر کا جدید دورِ غلامی
الف۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کی آمد
۱۹۴۷ میں ہندوستان میں ہندوستانیوں کی طرف سے برطانیہ کے خلاف ایک بہت بڑی فوجی بغاوت متوقع تھی۔یعنی برطانیہ کے خلاف ہندوستان میں سوسال کے اندر دوسری بڑی فوجی بغاوت ہونے والی تھی ،اس سے پہلے بھی برطانوی حکومت ۱۸۵۷ کی فوجی بغاوت کا مزہ چکھ چکی تھی لہذا حکومت کوشش کررہی تھی کہ اسے مزید کسی فوجی بغاوت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس متوقع فوجی بغاوت کو ٹالنے کے لئے ۲۲ مارچ ۱۹۴۷ کو لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔
18 مئی 1947ء کو لارڈبیٹن اپنی رپورٹ مرتب کرکے واپس لندن روانہ ہوگئے۔لندن میں لارڈ ماونٹ بیٹن کی رپورٹ پر سیر حاصل بحث ہوئی جس کے بعد انہیں ۳۰مئی ۱۹۴۷ء کو پھر ہندوستان بھیج دیاگیا۔
ب۔جون تھری پلان
2 جون 1947ء کو وائسرائے ہند لارڈ ماونٹ بیٹن اور ہندوستان کی سیاسی شخصیات کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں لارڈ نے مقامی سیاسی رہنماوں کو اپنی رپورٹ اور تجاویز سے آگاہ کیا۔۳جون کولارڈ ماونٹ بیٹن نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنی تقریر میں آزادی اور تقسیم ہند کا فارمولا پیش کیا جسے ’’جون تھری پلان‘‘ کا نام دیا گیا۔
اس تقریر میں انہوں نے تسلیم کیا کہ مسئلہ ہندوستان کا حل تقسیم ہندوستان ہی ہے۔
۳جون کی شام کو ہی برطانیہ کے وزیراعظم ایٹلی نے بی بی سی لندن سے اعلان کیا کہ ہندوستانی رہنما متحدہ ہند پلان کے کسی حل پر متفق نہ ہو پائے لہٰذا تقسیم ہند ہی واحد حل ہے۔ یوں 3 جون 1947ء کو پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کے فلسفے پر خط بطلان کھینچ دیاگیا۔
’جون تھری پلان‘‘ کی رو سے ہندوستان میں واقع برطانیہ کے زیر انتظام تمام ریاستیں ہندو یا مسلمان ہونے کے ناطے ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کا اختیار رکھتی تھیں۔موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے جواہر لال نہرو نے کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔مسٹر نہرو کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتاہے کہ لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسراے بنوانے میں ان کا کلیدی رول تھا اور بعد ازاں ان کی ماونٹ بیٹن سے دوستی رنگ لائی اور کشمیر پاکستان میں شامل نہ ہوسکا۔
ج۔ریڈکلف کی لاعلمی
تقسیم ہند کے وقت حکومت برطانیہ کی طرف سے سرحد کمیشن کا چیئرمین ریڈ کلف کو منتخب کیا گیا۔لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنے زمانہ طالب علمی کے کالج کے ساتھی ریڈ کلف کو مسٹر نہرو کی منصوبہ بندی کے مطابق مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔
یاد رہے کہ ریڈکلف اس سے پہلے کبھی ہندوستان نہیں آیا تھا اور ہندوستان کے بارے میں اس کی معلومات فقط سننے سنانے کی حد تک تھیں۔ چنانچہ وہ لارڈ ماونٹ بیٹن کی ہدایات پر ہی عمل کرنے پر مجبور تھا۔
د۔مسٹر نہرو کا کردار
اگرچہ لارڈمائونٹ بیٹن کے وائسرائے مقرر کروانے سے مسٹر نہرو تقسیم ہند کو تو نہیں رکوا سکے البتہ انہوں نے ریڈ کلف ایوارڈکے ذریعے مسلم اکثریتی ضلع گرداسپور کی تین تحصیلیں بھارت میں شامل کرانے میں ضرور کامیابی حاصل کی جس کے باعث کشمیر میں بھارتی فوجوں کی مداخلت ممکن ہو گئی ۔
بلاشبہ اگر تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت مسلم اکثریت کا ضلع گرداسپور پاکستان کے حوالے کر دیا جاتا تو بھارت ، پاکستان کےخلاف کشمیر میں کبھی بھی جنگ نہیں لڑ سکتا تھا۔تاریخی شواہد سے پتہ چلتاہے کہ مسٹر نہرو ،لارڈ ماونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ہندوستان کو سنکیانگ تک پھیلانا چاہتے تھے۔ان کی اس کوشش کو شمالی علاقہ جات کی غیور عوام نے کامیاب نہیں ہونے دیا۔
اسی طرح ریڈکلف کی طرف سے ضلع مالدہ,مرشدآباد,کریم گنج اور حیدر آباد کی طرح متعدد مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کو ہدئیے میں دے دئیے گئے۔
ر۔ مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ
24 اکتوبر ۱۹۴۷کو کشمیر کے آخری مہاراجے ہری سنگھ نے بھارت سے فوج منگوائی اور ۲۷ اکتوبر کو انڈین آرمی کی ایک سکھ بٹالین طیاروں کے ذریعے بھارت سے سرینگر پہنچی ۔اس صورتحال میں کشمیریوں نے مایوسی کے بجائے تحریک آزادی کا اعلان کردیا۔اس تحریک کے نتیجے میں کشمیر کا ایک حصہ مہاراجےکے تسلط سے آزاد ہوگیا جسے ہم آزاد کشمیرکے نام سے جانتے ہیں اور باقی حصے میں تحریک آزادی ہنوز چل رہی ہے۔
کشمیر کی جدید غلامی کے ذمہ دار!؟
تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر پر قبضہ کرنا گاندھی جی کی خواہش نہیں تھی بلکہ پنڈت نہرو اور مہاراجہ ہری سنگھ کا خواب تھا۔پنڈت نہرو چونکہ خود کشمیری برہمن تھے لہذا برہمن ہونے کے ناطے ان کی پوری کوشش تھی کہ ان کا آبائی وطن ہندوستان میں شامل ہو۔اسی طرح پاکستان میں شامل ہونے کی صورت میں مہاراجے کو اپنے اقتدار کے باقی رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی چنانچہ اس نے بھی اپنا مفاد اسی میں دیکھا کہ ہندوستان کو حملے کی دعوت دی جائے۔المختصر یہ کہ دونوں مذکورہ کرداروں نے اپنے پنے مفاد کے لئے ہندوستان کو استعمال کیا اور ہندوستانی فوجوں کو کشمیر میں لاکر پھنسایا۔
سلامتی کونسل اور مسئلہ کشمیر
دسمبر 1947ء کے آخرمیں ہندوستان نے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں پیش کیا اور یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کا حق تسلیم کرتے ہوئے وہاں پر رائے شماری کی قرارداد منظور کی۔ 13 اگست 1948 ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی فوج اور قبائلیوں کو نکال لے گا تو یہاں کا انتظام لوکل اتھارٹیز سنبھالیں گی اور کمیشن ان کو سپروائز کرے گا۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ بھارت کو یہاں ساری فوج رکھنے کی اجازت ہو گی۔ بلکہ قرار پایا کہ اس کے بعد بھارت بھی اپنی فوج کا بڑا حصہ "Bulk of its forces” یہاں سے نکال لے گا اور اسے صرف اتنے فوجی رکھنے کی اجازت ہو گی جو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے لوکل اتھارٹیز کی مدد کے لیے ضروری ہوں۔ جب اقوام متحدہ کے کمیشن نے دونوں ممالک سے قرارداد پر عملدرآمد کے لیے پلان مانگا تو بھارت نے دو مزید مطالبات کر دیے۔ ایک یہ کہ اسے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال اور شمال مغرب کے علاقوں پر کنٹرول دیا جائے اور دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے قائم اداروںکو نہ صرف مکمل غیر مسلح کر دیا جائے بلکہ ان اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے۔
بھارت نے 3جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ واویلا مچایا کہ کشمیر میں جاری بغاوتیں پاکستان کی ایما پر کی جارہی ہیں،چنانچہ سلامتی کونسل نے 14 مارچ 1950ء کو کشمیر میں غیر جانبدار مبصر کی زیر نگرانی استصواب رائے (ریفرنڈم) کرانے کا فیصلہ کیا اور بھارت و پاکستان کو ہدایت کی کہ دونوں پانچ ماہ کے اندر رائے شماری کی تیاری کریں۔پھر اس کے بعد وہ پانچ ماہ ابھی تک نہیں آئے۔
30 مارچ 1951 ء کو سلامتی کونسل نے امریکی سینیٹر فرینک پی گراہم کو نیا نمائندہ مقرر کر کے کہا کہ تین ماہ میں فوج کشمیر سے نکالی جائے اور پاکستان اور بھارت اس پر متفق نہ ہو سکیں تو عالمی عدالت انصاف سے فیصلہ کرا لیا جائے۔فرینک صاحب نے چھ تجاویز دیں بھارت نے تمام تجاویز رد کر دیں۔ خانہ پری کے لیے بھارت نے کہا وہ تو مقبوضہ کشمیر میں اکیس ہزار فوجی رکھے گا جب کہ پاکستان آزاد کشمیر سے اپنی فوج نکال لے ، وہاں صرف چار ہزار مقامی اہلکار ہوں ، ان میں سے بھی دو ہزار عام لوگ ہوں، ان کا آزاد کشمیر حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ان میں سے بھی آدھے غیر مسلح ہوں۔ گراہم نے اس میں کچھ ردو بدل کیا، پاکستان نے کہا یہ ہے تو غلط لیکن ہم اس پر بھی راضی ہیں ، بعد میںبھارت اس سے بھی مکر گیا۔سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بار پھر تجویز دی کہ ’’ آربٹریشن ‘‘ کروا لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو انخلاء کے معاملے میں کون سا ملک تعاون نہیں کر رہا ۔پاکستان اس پر بھی راضی ہو گیا ، بھارت نے یہ تجویز بھی ردکر دی۔
المختصر یہ کہ مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل نے پہلی قرارداد نمبر انتالیس20جنوری 1948 کو منظور کی جس کے تحت مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے تین رکنی کمیشن بنایا گیا۔اکیس اپریل انیس سو اڑتالیس کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر سنتالیس منظور کی جس کے تحت سابقہ قرارداد میں تجویز کردہ کمیشن کے ممبران کی تعداد کو بڑھایا گیا۔اس قرارداد میں پیش کردہ تجاویز کے تحت مسئلہ کشمیر کا تین مراحل پر مشتمل حل پیش کیا گیا۔ کمیشن کا امن و امان بحال کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں استصواب رائے کرانے کا حکم دیا گیا۔تین جون انیس سو اڑتالیس کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر اکیاون کے ذریعے پچھلی قراردادوں میں بنائے گئے کمیشن کو مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کا حکم دیا۔
چودہ مارچ انیس سو پچاس کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد نمبر اسی میں پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی پرعمل درآمد کرتے ہوئے خطے سے فوجیں ہٹانے کا کہا گیا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان ساری کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا،اس مسئلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں اور اس کے علاوہ 72سال کی طولانی مدت بھی بیت چکی ہے، اس کے باوجود کسی قسم کی بہتری آنے کے بجائے ۲۰۱۹ میں بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی ختم کردی ہے ۔
یہ کشمیر کی غلامی کی ابتدا سے لے کر اب تک کا مختصر پسِ منظر ہے،اس پسِ منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت ہم تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے کچھ اصول بیان کر رہے ہیں ۔
کامیابی کے اصول
اس سے پہلے کہ ہم تحریکِ آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک تفصیلی حکمتِ عملی تجویز کریں، بطورِ خلاصہ یہ بیان کرتے چلیں کہ ایک دانش مند کے بقول کسی بھی تحریک کی کامیابی کے پانچ بنیادی اصول ہیں۔
- تحریک کی قیادت مقامی ہونی چاہیے، باہر سے قیادت کو مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
- تحریک کے ساتھ باقی مسلمانوں کے روابط کسی بھی قسم کے اقتصادی یا دیگر منافع و مفادات کے بجائے اسلامی اخوت و بھائی چارے پر استوار ہونے چاہیے۔
- اگر آپ کسی اسلامی تحریک کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا ماتحت، کمتر یا اپنا محتاج نہ سمجھیں، اور ان پر کوئی احسان نہ جتلائیں بلکہ اپنی دینی ذمہ داری سمجھ کر محترمانہ رویے کے ساتھ اُن کی مدد کریں۔
- آپ اُن کی مدد ایسے کریں کہ اُن کی کمزوری ، اُن کی طاقت میں بدل جائے اور اُس کے بعد وہ کسی کے محتاج نہ رہیں، اُنہیں اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔
- اُن پر آپ اپنا حکم نہ چلائیں ، اُنہیں آپ مشورے ضرور دیں لیکن اپنے فیصلے کرنے میں اُنہیں آزاد چھوڑدیں، اور ان پر اپنی پسند و ناپسند کو نہ تھوپیں۔
کامیابی کے اصول بیان کرنے کے بعد اب آئیے ہم اس مسئلے کے حکمتِ عملی پر بات کرتے ہیں، ہمارا تجویز کردہ حکمتِ عملی دو حصوں میں تقسیم ہے، کچھ ایسے کام ہیں جو مقبوضہ کشمیر و آزاد کشمیر نیز پاکستان کی سیاسی قیادت ، علما ، ادبا، صحافیوں اور دانشوروں کو ملک میں اندرونی طور پر انجام دینے چاہیے اور کچھ سفارتی و سیاسی امور ایسے ہیں جو مل کر عالمی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز اور دیگر ممالک میں انجام پانے چاہیے۔
حکمتِ عملی:۔
اندرونی حکمتِ عملی
حکومتی سرگرمیاں
۱۔کشمیر در اصل مسلمانوں کی باہمی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھا ہے ، قرآن مجید نے بھی مسلمانوں کو تحاد اور اتفاق کا حکم دیا ہے، اگر ابتدا میں اہلیان کشمیر فرقہ پرستی کی بھینٹ نہ چڑھتے اور کشمیر مغلوں کی غلامی میں نہ جاتا تو نوبت یہانتک نہ پہنچتی۔آج بھی اگر کشمیری ،غلامی سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں فرقہ واریت سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا۔فرقہ وارانہ سوچ کشمیریوں کو کمزور تو کرسکتی ہے لیکن مضبوط نہیں۔اس سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان و آزاد کشمیر میں شدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔
۲۔ا ٓزادی ہر انسان کافطری اور جمہوری حق ہے ،دنیا کی تمام باشعور اقوام اور ادارے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں،لہذا کشمیریوں کو اپنی تحریک آزادی کی نظریاتی بنیادوں کو کھل کر بطریقِ احسن بیان کرنا چاہیے، اس مقصد کیلئے حکومت ملک میں مختلف فورم قائم کرے اور ہر فورم سے آواز اٹھائے۔
۳۔ اذہان کو کنٹرول کرنے میں میڈیا اور نصابِ تعلیم کی طاقت سب پر بھاری ہے،حکومت کو چاہیے کہ ملک کے اندر تمام چینلز اور تعلیمی نصاب کی پہلی ترجیح کشمیر کو قرار دے۔
۴۔ مسئلہ کشمیر ایک قانونی اور سیاسی مسئلہ ہے جو ریڈکلف سمیت چند خواص کی خیانت کی وجہ سے پیش آیا لہذا اسے قانونی اور سیاسی طور پر ہی حل ہونا چاہیے۔شدت پسندی،بد اخلاقی ،بے احترامی ،دہشت گردی اور خون خرابے کو ہر انسان ناپسند کرتاہے۔لہذا تحریکِ آزادی کشمیر کو کسی طور بھی دہشت گرد ٹولوں کے ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے۔حکومتِ پاکستان کو یہ جنگ سیاسی اور قانونی بنیادوں پر عالمی برادری کے ساتھ مل کر لڑی جانی چاہیے۔
عوامی سرگرمیاں
۱۔ عوامی فورمز، سوشل میڈیا اور سیاسی و مذہبی پارٹیوں کی اوّلین ترجیح مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے۔پاکستانیوں اور کشمیریوں کو ہندوستانی تنظیموں،سیاسی پارٹیوں ،دانشمندوں اور مختلف مذاہب و مسالک کے رہنماوں تک اپنے اس پیغام کو بطریقِ احسن پہنچانا چاہیے کہ کشمیری ، ہندوستان کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کررہے بلکہ اپنی سر زمین کی آزادی کے لئے کوشاں ہیں۔اس حقیقت کو خود ہندوستانیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی ہندوستان کے خلاف نہیں بلکہ خود کشمیریوں کی آزادی کے لئے ہے۔
خصوصا ً اس مسئلے کو ٹھوس شواہد کے ساتھ بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے کا فیصلہ گاندھی جی کا نہیں تھا اور نہ ہی ہندوستان اپنی فوجیں زبردستی کشمیر میں داخل کرنے کا خواہاں تھا۔ یہ سارا کھیل پنڈت نہرو اور مہاراجے کا تھا اوریہ دونوں خود کشمیری تھے۔ان کے بلانے پر ہندوستانی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں اور پھر وہاں پھنس گئیں ،لہذا ہندوستان کی طرف سے اس مسئلے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر طول دینا اور ڈٹ جانا کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔
۳۔اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کاغذی قراردادیں اب کشمیریوں کے کام آنے والی نہیں ۔اب اہلیانِ پاکستان و کشمیرکو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ فیصلے حکومتیں نہیں بلکہ ملتیں کرتی ہیں،یہ جمہوری دور ہے ،عوامی طاقت ہی اصل طاقت ہے،مسئلہ کشمیر کو ہر ممکنہ طریقے سے دیگر ملتوں تک مسلسل پہنچایا جانا چاہیے اور ان سے مدد کی درخواست کی جانی چاہیے۔ضروری ہے کہ دنیا کے اطراف و کنار میں انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو پوری طاقت کے ساتھ اٹھایاجائے۔یعنی پاکستان کے اندر سے عوام کی طرف سےعالمی برادری کے ساتھ مکالمے کا آغاز کیا جائے۔
۵۔دنیا میں ہر جگہ شدت پسند اور دہشت گرد ٹولے پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کشمیر میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو جہاد اور دہشت گردی میں فرق کرنا چاہیے اور سارے اہلیانِ کشمیر کو دہشت گرد نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ملت کشمیر کو ہندوستان کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں جہاں کشمیریوں کی حمایت کرنی ہے وہیں دہشت گردانہ کارروائیوں کی مزمت اور حوصلہ شکنی کی بھی ضرورت ہے۔
۶۔جو قوم فکری طور پر شکست قبول کرلیتی ہے اسی عملی میدان میں شکست دینا آسان ہوجاتاہے۔پاکستان کے خواص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو ہندی فلموں کے ثقافتی اثرات سے محفوظ بنائیں ، انہیں چاہیے کہ اہلیانِ کشمیر کو اسلامی شناخت اور عالمی اسلامی تحریکوں اور شخصیات سے جوڑے رکھیں۔خصوصا قیامِ پاکستان کی تاریخ، فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کی تاریخ اور کامیابیوں سے کشمیریوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی ہمت اور حوصلہ بلند رہے۔
۷۔کشمیری اپنی غلامی کے ابتدائی دور سے ہی غلامی پر رضامند نہیں ہوئے، سو آزادی کی جنگ وہ مسلسل نسل در نسل لڑتے چلے آرہے ہیں۔آزادی کی اس شمع کو جلائے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو فنون لطیفہ ،شعرو شاعری اور ناول و افسانے کے ذریعے بھی نسل در نسل آگے منتقل کیاجائے۔
بیرونی حکمتِ عملی
حکومتی سرگرمیاں
۱۔تمام اسلامی مناسبتوں خصوصا ایامِ حج کے موقع پر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک خصوصاً مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں ، آزادی کشمیر کے لئے سیمینارز اور اجلاس منعقد کئے جائیں اور کشمیر کے مسئلے کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے مکے اور مدینے میں حج کی خاطر جمع ہونے والی عالمی اسلامی برادری تک پہنچایاجائے۔
۲۔ تمام ممالک میں پاکستانی سفارت خانے مختلف زبانوں میں ہفتہ وار یا ماہانہ کشمیری نیوز بلیٹن نکالیں جس میں کشمیر میں ہونے والے تازہ مظالم کو ہر ملک کی قومی و سرکاری زبان میں دیگر اقوام تک پہنچائیں۔
۳۔تمام پاکستانی سفارتخانوں میں باقاعدہ کشمیر ڈیسک قائم کر کے مطلوبہ فعالیت انجام دی جائے۔ اور مختلف ممالک میں کشمیر کی حمایت کیلئے فورمز تشکیل دئیے جائیں۔
عوامی سرگرمیاں
۱۔ مختلف ممالک میں موجود بااثر پاکستانی دیگر ممالک کے موصلاتی چینلز پر کشمیر کے حوالے سے گفتگو کریں۔ اور عالمی برادری نیز اقوام متحدہ کو ان کا وعدہ یاد دلائیں۔
۴۔ پاکستانی عوام مختلف ممالک میں اپنے طور پر شہدا کی برسیاں، یومِ یکجہتی کشمیر اورکشمیر کی دیگر مناسبتوں کو منانے کا بندوبست کریں۔
۵۔پاکستانی عوام کو کشمیریوں کی مدد و حمایت کیلئے عوامی فورمز تشکیل دے کر اپنی آواز ہر ملک میں اُٹھانی چاہیے۔
منابع
اس تحقیق میں مندرجہ زیل منابع سے استفادہ کیا گیا
۱۔تحریک آزادی کشمیر از پروفیسر خورشید احمد
۲۔کشمیر اینڈ پارٹیشن آف انڈیاڈاکٹر شبیر چوہدری انگلش ایڈیشن
۳۔ششماہی سنگر مال تحقیقی مجلہ پنجاب یونیورسٹی لاہور
۴۔مطالعہ کشمیر از پروفیسر نذیر احمد
۵۔تاریخ کشمیر یعنی گلدستہ کشمیر از پنڈت ہرگوپال خستہ[آن لائن]
۶۔A brief history of the Kashmir conflict
http://www.telegraph.co.uk/news/1399992/A-brief-history-of-the-Kashmir-conflict.html
۷۔Kashmir: Roots of Conflict, Paths to Peace
by Sumantra Bose
۸۔The Challenge in Kashmir: Democracy, Self-Determination and a Just Peace
by Sumantra Bose
۹۔ مشن ودماؤنٹ بیٹن از کیمل جانسن
۱۰۔ اقبال اور تحریک آزادی کشمیر از غلام نبی خیال
۱۱۔ تاریخ اقوامِ کشمیر ، محمددین فوق
۱۲۔ سردار شمس خان ملایال شہید از محمد صدیق خان چغتائی
۱۳۔ انٹرویو از علامہ ناصر عباس جعفری، سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان
