کشمیر… انسانی المیہ
محمد اکرم خان
یہ تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہے۔سن 1948ء، سن1965 ءمیں،1971ءمیں ،ان تینوں میں مقبوضہ کشمیر میں آپ کا کوئی حمایتی نہیں تھا۔ لیکن اس مرتبہ یہ صورت حال تھی کہ وادی کشمیر کا ایک ایک بچہ پاکستان کی طرف دیکھ رہا تھا ،لیکن آپ نے کچھ بھی نہیں کیا، 62ء میں چین نے لداخ پر حملہ کیا تھا
سردار اشرف خان ماہر امور کشمیر
اُس وقت ہمارے لیے ایک سنہری موقع تھا، اُس وقت ہم کشمیر کو آزاد کرا سکتے تھے لیکن اُس وقت کشمیری ہمارے ساتھ نہیں تھے، کشمیریوں کے حق رائے دہی کا شور کیا جاتا ہے حالاں کہ رائے شماری کی بات ہم نے نہیں بھارت نے کی تھی،پاکستان کو چاہئے کہ وہ کشمیری کاز کو مستحکم کرے صرف کشمیری مسلمان نہیں کشمیری عوام،ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم کشمیری سرزمین کے لیے کام کریں، سپورٹ کریں اور دُوسرے ملکوں سے بھی کہیں کہ کشمیری سرزمین کا۔ کشمیری عوام کا حق بحال کرانے میں ساتھ دیں
آرٹیکل 35 اے خاتمے کے بعد نریندر مودی حکومت نے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی روند ڈالا۔
کشمیری رہنما/اہلیہ یاسین ملک
بھارتی اقدامات پر کشمیر انٹرنیشنل میڈیا کی زینت ضرور بنا لیکن عالمی برداری نے بھارتی اقدامات اور مظالم کی روک تھام کے لیے کوئی خاص اقدامات نہ کیے۔اقوام متحدہ نے بھی ماسوائے تشویش کا اظہار کرنے کے بھارتی حکومت کو کشمیر میں مظالم روکوانے میں کوئی کردار ادا نہ کیا، ہم نے پاکستان کے نئے نقشے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کو اپنا حصہ ظاہر کرکے بھارت کو ایک کڑا پیغام تو دے دیا،مگر استصواب رائے والے مطالبے کا کیا ہوگا
مشعال ملک
پچھلے چھ سال سے مودی حکومت کے پے در پے مجرمانہ اور ظالمانہ اقدامات نے اب کشمیر کو عالمی سطح پر صف اول کے خطرناک مسائل کی صف میں لا کھڑا کیا ہے
سیاسی تجزیہ کار/وائس آف امریکا فیض رحمٰن
جس سے مغرب میں سیاسی اور عوامی سطح پر اس اہم مسئلہ پر وسیع پیمانے پر آگاہی پھیل رہی ہے،کشمیر ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جسے مزید نظرانداز کرکے ایک بہت خوفناک انسانی تباہی کا خطرہ مول لیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال پانچ اگست سے پہلے اقوام عالم کو بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا کوئی ادراک نہیں تھا ۔پوری کشمیر وادی ایک بڑی بے رحمانہ جیل میں تبدیل کردی گئی اور ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود مظلوم کشمیری مسلسل حالت قید میں ہیں
سردار نزاکت علی
لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا وزیر اعظم کہہ رہا تھا کہ مودی الیکشن جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا ،ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے، آج پاکستان کے اندر ایسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ ہم کشمیریوں کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے،پاکستان کے ہر مکاتب فکر کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور اپنی حکومت کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کے لوگ کسی صورت تقسیم کشمیر کو قبول نہیں کریں گے
