Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کی خود مختاری کے خلاف پنڈت نہرو کا ایک گھناوْنا کردار۔ یونس تریابی

 قانون آزادی ہند1947ء کے تحت ریاست کشمیر کو حاصل خود مختاری کے قانونی اور آئینی استحقاق اور اپنے قانونی و آئینی اور جمہوری حقوق کے لئے بر سر پیکار کشمیری  عوام کی جدوبہد کو کچلنے، ختم کرنے یا دبانے کے لئے ایک باقاعدہ غیر اعلانیہ اور خفیہ اتحاد ثلاثہ(بھارت و پاکستان اور برطانیہ)قائم کیاگیا۔میرپور ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر اورکشمیر میں قائم انٹر نیشنل لائرز فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین چوہدری محمد محفو ظ ایڈوکیٹ نے "دی رول آف یونائیٹڈ نیشنز آن کشمیر ڈسپیوٹ”کے زیر عنوان اپنے ایک حالیہ انگریزی مضمون میں کشمیر کی خود مختاری کے خلاف اتحاد ثلاثہ کے خفیہ قیام اور اس کے منصوبوں اور سازشوں کو ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ یہ کام کشمیری عوام کے قانونی، انسانی و آئینی اور جمہوری حقوق پر یقین رکھنے والوں پر ایک احسان عظیم سے کم نہیں ہے۔ اس مضمون کے مطالعہ سے اصل تنازعہ کشمیر کو سمجھنے اور اس کامنصفانہ اور قانونی حل تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محفوظ صاحب کی تحقیق کے مطابق کشمیری عوام کے قانونی وآئینی اور جمہوری حقوق کے خلاف اتحاد ثلاثہ کی ریشہ دوانیوں میں اُس وقت کی برطانوی حکومت کے بعد ایک بڑا گھناوْنا کردار بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو کا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے یہ جانتے ہوے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کشی کے بعد پاکستان کے بیشتر مسلح قبائلی حملہ آور نومبر 1947ء کے وسط تک لوٹ مار و غارتگری کا بازار گرم کرکےکشمیر چھوڑ چکے تھے،جنوری 1948ء میں اقوام متحدہ سے یہ کہا کہ کشمیر کے اندر قبائلی حملہ آور لڑ رہے ہیں جو کہ دہشت گرد ہیں۔اصل میں پنڈت نہرو اقوام متحدہ کے بین الاقوامی پلیٹ فارم پرجنہیں قبائلی حملہ آور ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ آزاد کشمیر کی ایک باقاعدہ منظم فوج تھی جس میں کشمیر کے تینوں زونز کے کشمیری شامل تھے۔ محفوظ صاحب کا کام بنیادی طورپر تنازعہ کشمیر کے قانونی پہلو سے متعلق ہےمگر اُن کی تحریر سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اتحاد ثلاثہ کے پہلے سے طے شدہ ایک منصوبے کے تحت جنگ بندی لائن کے نام پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر کی جبری تقسیم اور پھر پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی دو حصوں میں مزید تقسیم اور منقسم کشمیر کے جموں سرینگر لداخ زون پر بھارت اور گلگت بلتستان ہنزہ زون اور مظفرآباد پونچھ میرپور زون پر پاکستان کے جبری اور غیر قانونی قبضہ کو مکمل کیا گیا۔نیز، اقوام متحدہ کے ممبران کو دھوکہ دے کر اور اصل تنازعہ کشمیر سے انہیں اندھیرے میں رکھ کر کشمیری عوام کو رائے شماری کے جال میں پھنسایا گیا۔اور جب کشمیری قیادت کشمیری عوام کے قانونی و آئینی اور جمہوری حقوق سے دستبردار ہو گئی تو بھارت کے حکمران کشمیر میں رائے شماری کرانے کے اپنے وعدے سے بھی مُکر گئے۔

           صدائے کشمیر فورم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے