وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ستر دہائیوں سے بھارت جموں کشمیر پر قابض ہے اور بار بار اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوانوں کو اٹھایا گیا۔ بھارتی فوج کے مظالم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی رپورٹ میں درج ہیں۔ گزشتہ سال 5 اگست کو یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو بھارت نے تبدیل کیا گیا۔ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرنے کیلئے فوج کو تعینات کیا گیا۔ کشمیری میڈیا اور حقوق کی آواز بلند کرنے والے کشمیریوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ پرامن مظاہرین پر بھارتی افواج نے پیلٹ گن سے حملے کیے۔ افسوس ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ایسی کارروائیاں بلا خوف وخطر جاری ہیں۔ عالمی برادری کو انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جرم ہے۔ سلامتی کونسل مشرقی تیمور میں اپنا کردار ادا کر چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقوام متحدہ یہاں بھی کردار ادا کرے۔ پاکستان ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا خواہاں رہا ہے۔ بھارت سب سے پہلے کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرے۔ کشمیر کا مسئلہ کشمیر کے عوام کی خواہش اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہا، حق خود ارادیت کو دبایا جا رہا ہے: وزیراعظم
