سری نگر(کے پی آئی) بھارتی فوج نے جنوبی کشمیر میں فوجی آپریشن کے دوران دو درجن سے زیادہ شہریوں کو یرغمال بنا لیا۔ پلوامہ کے سانبورہ علاقے میں گزشتہ روز بھارتی فوجی آپریشن کے دوران فوج نے مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی فوج نے سانبورہ میں فوجی اپریشن کے دوران 20کنال پر دھان کی فصل تباہ کر دی ہے۔ بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر میں مسلم اکثریتی تشخص کے خاتمے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اب کشمیریوں سے شادی کرنے والوں کو جموں وکشمیر کی مستقل شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ بالخصو ص کشمیریوں سے شادی کرنے والی تمام بھارتی خواتین کو جموں وکشمیر کی مستقل شہریت ملے گی جبکہ کشمیری نوجوانوں سے شادی کرنے والی 350 سے زیادہ پاکستانی خواتین کو ریاستی شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے ۔ کے پی آئی کے مطابق بھارتی حکومت کی اس پالیسی سے خاص طور پر 1990 کے بعد کشمیر سے فرار ہونے والے کشمیری پنڈت ( کشمیری نژاد ہندو) اپنے بھارتی شوہروں بیویوں اور بچوں سمیت جموں وکشمیر کی شہریت حاصل کریں گے ۔بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں ڈومیسائل قواعد میں ترمیم کر دی ہے ۔ نئے قوانین کے تحت اب ہماچل پردیش، پنجاب ، نئی دہلی اور دوسری بھارتی ریاستوں کی ان خواتین کو بھی شہریت ملے گی جن کی شادی کشمیر میں ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شناخت سے محروم پاکستانی خواتین نے سری نگر میں گورنر ہاوس کی طرف مارچ کیا ہے ۔ پولیس نے پاکستانی خواتین کا مارچ ناکام بنا دیا اس دوران درجن بھر خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ خواتین 2010 سے مقبوضہ کشمیر میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ ان خواتین نے پاکستان میں مقیم کشمیری نوجوانوں سے شادیاں کیں تھیں اور بھارتی حکومت کی بحالی سکیم کے تحت 2010 میں اپنے شوہروں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر چلی گئی تھیں، بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انہیں قبول نہیں کیا انہیں شہریت اور شناختی دستاویزادت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں آپریشن، فوج نے سینکڑوں افراد کو ڈھال بنا لیا
